سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کی جانب صوبوں میں بلدیاتی انتخابات ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
تاریخ اشاعت: 2015-03-05
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کی جانب صوبوں میں بلدیاتی انتخابات بارے مجوزہ شیڈول سختی سے مسترد کر دیا، آج نیا شیڈول طلب کرلیا،شیڈول دس ماہ کی بجائے چار ماہ میں بلدیاتی انتخابات کو حتمی شکل دی جائے ۔ یہ بہت زیادہ وقت ہے اتنا وقت نہیں دے سکتے،سپریم کورٹ کا حکم، ہماری کسی سے عداوت نہیں اس طرح کام نہیں چلے گا۔ بلدیاتی انتخابات آئینی تقاضا ہیں انتخابی فہرستوں ‘ حلقہ بندیوں سمیت سیاہی اور دیگر مسائل ہیں وہ الیکشن کمیشن کو بہت پہلے حل کرلینے چاہیں تھے،جسٹس جواد ایس خواجہ، ستمبر تک انتخابات چاہتے ہیں۔ ہم الیکشن کمیشن کے کام میں رکاوٹ نہیں ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں،جسٹس سرمد جلال عثمانی، اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات بارے سرے سے قانون ہی موجود نہیں قانون بنے گا تب ہی معاملات مکمل ہوں گے۔ صرف کاغذ کی سیاہی کیلئے تین ماہ درکار ہیں۔ چار ماہ حلقہ بندیوں کیلئے چاہیں، سیکرٹری الیکشن کمیشن

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔5 مارچ۔2015ء) سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کی جانب صوبوں میں بلدیاتی انتخابات بارے مجوزہ شیڈول سختی سے مسترد کردیا ہے اور آج جمعرات کو نیا شیڈول طلب کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ شیڈول دس ماہ کی بجائے چار ماہ میں بلدیاتی انتخابات کو حتمی شکل دی جائے ۔ یہ بہت زیادہ وقت ہے اتنا وقت نہیں دے سکتے۔ یہ حکم جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے رات نو بجے کے بعد جاری کیا ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے اس دوران ریمارکس دیئے ہیں ہماری کسی سے عداوت نہیں اس طرح کام نہیں چلے گا۔ بلدیاتی انتخابات آئینی تقاضا ہیں انتخابی فہرستوں ‘ حلقہ بندیوں سمیت سیاہی اور دیگر مسائل ہیں وہ الیکشن کمیشن کو بہت پہلے حل کرلینے چاہیں تھے۔ جبکہ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے جو ریمارکس دیئے ہیں ستمبر تک انتخابات چاہتے ہیں۔ ہم الیکشن کمیشن کے کام میں رکاوٹ نہیں ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں جبکہ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں عدالت کو بتایا اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات بارے سرے سے قانون ہی موجود نہیں قانون بنے گا تب ہی معاملات مکمل ہوں گے۔

صرف کاغذ کی سیاہی کیلئے تین ماہ درکار ہیں۔ چار ماہ حلقہ بندیوں کیلئے چاہیں اس کے علاوہ اور بھی مسائل ہیں تقریباً 2280 کے قریب ملازمین اتنا بڑا کام ہم نہیں کر سکتے۔ اس پر عدالت نے انہیں کہا یہ کام آپ کو بہت پہلے کرنا چاہیے تھا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا سندھ اور پنجاب میں چالیس ووٹرز کا اندراج ہوگا۔ انتخابی فہرستیں 2013 ء تک اپ ڈیٹ ہیں ان کو بھی بنایا جانا ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد رات 8 بجے دوبارہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں شروع ہوئی جس میں اٹارنی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

05-03-2015 :تاریخ اشاعت