پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کرپٹ افراد کو سزا اور قومی خزانے کی لوٹ مار مچانے والوں کو عبرت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کرپٹ افراد کو سزا اور قومی خزانے کی لوٹ مار مچانے والوں کو عبرت کا نشان بنانے پر اختلافات کا شکار ،قوم کا پیسہ لوٹنے والے سرکاری افسران کسی رعایت کے مستحق نہیں ان سے لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لی جائے،شیخ رشید ،چیئرمین سید خورشید شاہ کرپٹ افراد کو معاف کرنے کے حق میں بیان دیتے رہے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔4 مارچ۔2015ء) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی(پی اے سی ) کرپٹ افراد کو سزا دینے اور قومی خزانے کی لوٹ مار مچانے والوں کو عبرت کا نشان بنانے پر اختلافات کا شکار ہوگئی ہے‘ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ممبر شیخ رشید نے کہا ہے کہ قوم کا پیسہ لوٹنے والے سرکاری افسران کسی رعایت کے مستحق نہیں ان سے لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لی جائے جبکہ پی اے سی کے چیئرمین سید خورشید شاہ کرپٹ افراد کو معاف کرنے کے حق میں بیان دیتے رہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا پارلیمنٹ ہاؤس میں خورشید ساہ کی صدارت میں ہوا جس میں شیخ رشید ‘ افضال رانا ‘ عبدالمنان‘ کاظم علی شاہ‘ کشور نعیمہ اور سردار جعفر لغاری اور جنید اقبال نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کے مالی سال 2009-10 ء کے آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آڈیٹر جنرل بلند اختر رانا نے بھی شرکت کی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ ایک سال میں وزارت صنعت و پیداوار میں چودہ ارب روپے کی مالی بدعنوانیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابقوزارت صنعت وپیداوار کے اعلیٰ افسران کی طرف سے چھٹیوں کی مد میں 51 لاکھ روپے کی کرپشن کی گئی۔ آڈیٹر جنرل نے کہا کہ ان افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے اور لوٹی ہوئی رقم بھی واپس لی جائے۔ اس پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ یہ پانچ سال پرانی بات ہے سرکاری افسران ریٹائر ہوگئے ہوں گے اب ان سے یہ لوٹی ہوئی رقم کیسے واپس ہوگی۔ اس پر عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور کشور نعیمہ نے سخت احتجاج کیا اور کہا کہ قومی دولت لوٹنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

آڈیٹر جنرل نے کہاکہ وزارت خزانہ نے بھی ان کو چھٹیوں کی مد میں سرکاری رقوم کو ہضم کرنے سے منع کر رکھا ہے لیکن اس کے باوجود وزارت صنعت و پیداوار کے ذیلی ادارہ انجینئر ڈویلپمنٹ بورڈ کے افسران نے 51 لاکھ روپے کی کرپشن کی ہے۔ ان کو سزا ملنی چاہیے۔ لیکن چیئرمین سید خورشید شاہ ملازمین کو معاف کرنے پر زور دیتے رہے اور سرکاری ملازمین پر درگزر کرنے کا درس دیتے رہے تاہم دوسرے ممبران کی طرف سے شدید تنقید کے بعد خورشید شاہ کرپٹ افراد کو تحفظ دینے میں ناکام ہوگئے اور یہ اہم پیرہ موخر کردیا گیا۔

شیخ رشید نے اس موقع پر کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کرپٹ افراد کو معاف کرنے کی غلط روایت اور نہ مثال قائم کرے۔ ہم پر پوری قوم انگلیاں اٹھائے گی۔ ہم کرپشن کو ٹھپہ لگانے کیلئے یہاں نہیں بیٹھے بلکہ کرپشن کو روکنے کیلئے یہاں بیٹے ہیں اور قومی خزانے کے ایک ایک روپے کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں ۔ سیکرٹری صنعت وپیدوار نے پی اے سی کو بتایا کہ انجینئرنگ بورڈ کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے اور اب تک انہوں نے کوئی نئی ایجادات نہیں کی۔

شیخ رشید نے کہاکہ انجینئرنگ بورڈ قومی خزانے پر بوجھ ہے اس ادارے نے آج تک کوئی نیا پرزہ نہیں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

04-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان