یمنی صدر سعودی عرب میں مصالحتی مذاکرات کے خواہاں،حوثیوں اورعلی صالح کی جماعت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
-

تلاش کیجئے

یمنی صدر سعودی عرب میں مصالحتی مذاکرات کے خواہاں،حوثیوں اورعلی صالح کی جماعت نے صنعا سے مذاکرات کی منتقلی کی مخالفت کردی

عدن(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔4 مارچ۔2015ء) یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے کہا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کی ثالثی میں مصالحتی مذاکرات کے لیے ملک میں کسی جگہ پر اتفاق نہیں ہوتا تو پھر ان مذاکرات کو پڑوسی ملک سعودی عرب میں منتقل کردیا جائے۔یمنی صدر نے تجویز پیش کی ہے کہ اب یہ مذاکرات عدن میں یا پھر ملک کے تیسرے بڑے شہر تعز میں ہونے چاہئیں۔ان دونوں شہروں پر حوثی باغیوں کا کنٹرول نہیں ہے۔انھوں نے منگل کے روز قبائلی زعماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ممکن ہے عدن اور تعز بعضوں کے لیے قابل قبول نہ ہوں،اس لیے میرا مطالبہ ہے کہ ان مذاکرات کو خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے الریاض میں واقع صدر دفاتر میں منتقل کردیا جائے اور یمن کے سیاسی دھڑے بحران کے حل کے لیے وہاں مل بیٹھیں۔

ان کی جانب سے یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے وسطی علاقے میں حوثی شیعہ باغیوں اور القاعدہ کے حمایت یافتہ سنی قبائل کے درمیان جھڑپوں میں بتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی جمال بن عمر کی نگرانی میں متحارب سیاسی دھڑوں کے درمیان بات چیت دارالحکومت صنعا میں ہوتی رہی ہے لیکن صدر منصور ہادی کے گذشتہ ہفتے وہاں سے جنوبی شہر عدن منتقل ہوجانے کے بعد سے یہ مذاکرات معطل ہوچکے ہیں۔

یمنی صدر کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ انھوں نے جی سی سی سے مصالحتی مذاکرات کو اسپانسر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب دارالحکومت صنعا پر قابض حوثی شیعہ باغیوں نے مذاکرات کے لیے جگہ کی تبدیلی کی مخالفت کی ہے۔سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس نے بھی صنعا سے مذاکرات منتقل کرنے کی مخالفت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر یمنی دارالحکومت سے باہر مذاکرات منعقد ہوئے تو وہ ان کا بائیکاٹ کردے گی۔

علی عبداللہ صالح کے بارے میں ایسی رپورٹس منظرعام پر آچکی ہیں کہ انھوں نے حوثیوں کے صنعا پر قبضے کی حمایت کی تھی۔وہ خود بھی حوثیوں کی طرح زیدی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔جی سی سی میں شامل چھے ممالک نے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور انھوں نے ان کے حوثی شیعہ باغیوں سے بچ کرعدن چلے جانے کے بعد اپنے سفارت خانے بھی اس شہر میں منتقل کردیے ہیں۔سنی خلیجی عرب ریاستیں حوثیوں کے صنعا پر قبضے کے بعد سے اپنی تشویش کا اظہار کررہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ شیعہ حوثی یمن کو ایران کا آلہ کار ملک بنا دیں گے۔

درایں اثناء یمن کے وسطی صوبے بیضاء میں سنی قبائل کے ساتھ لڑائی میں پچیس حوثی باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔قبائلی ذرائع کے مطابق لڑائی میں سات سنی قبائلی بھی مارے گئے ہیں۔حوثی باغی گذشتہ سال ستمبر میں ملک کے شمالی علاقوں سے صنعا پر چڑھائی کے بعد سے سنی اکثریتی وسطی اور جنوبی علاقوں کی جانب بھی پیش قدمی کی کوشش کررہے ہیں لیکن انھیں ان علاقوں میں سنی قبائل اور القاعدہ کے جنگجووٴں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے سنی قبائل کے ساتھ اتحاد کے باوجود سرکاری فوجیوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔انھوں نے صوبہ حضر موت میں واقع اپنے مضبوط گڑھ قطن میں ایک بم حملے میں تین فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔

04-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان