روس میں نیمتسوو کی آخری رسومات میں کئی سیاستدانوں پر شرکت پر پابندی عائد کردی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

تلاش کیجئے

روس میں نیمتسوو کی آخری رسومات میں کئی سیاستدانوں پر شرکت پر پابندی عائد کردی گئی

ماسکو(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔4 مارچ۔2015ء)روس کی حزب اختلاف کے رہنما اور یورپی یونین کے کئی سیاستدانوں کو قتل کیے جانے والے روسی سیاستدان بورس نیمتسوو کی آخری رسومات میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔شرکت کے خواہش مند پولینڈ کے ایک سیاستدان کو ویزہ نہیں دیا گیا اور لیٹوا کے ایک ممبر یورپین پارلیمنٹ کو ماسکو سے واپس بھیج دیا گیا۔حزب اختلاف کے رہنما ’ایلکسی نیولنے‘جو 15 دن کی جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں کو بھی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں ملی۔

سوگوار ماسکو کے شکروٴ سینٹر کے پاس جمع ہیں جہاں بورس نیمتسوو کا تابوت رکھا گیا ہے۔ان کی تدفین بھی ’ٹروکروسکو‘ کے قبرستان میں ہو گی جہاں مقتول صحافی ’اینا پولیکوکیٹا‘ کو 2006 میں دفن کیا گیا تھا۔اتوار کو ان کی یاد میں ایک تعزیتی جلوس بھی نکالا گیا تھا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔ متقول سیاسی رہنما نے بھی اتوار کو حکومت مخالف منعقد ہونے والے اسی جلوس میں شرکت کرنا تھی تاہم ان کی ہلاکت کے بعد احتجاجی جلوس کو تعزیتی جلوس میں بدل دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ بورس نیمتسوو جو صدر پوتن کے شدید ناقد تھے اور ان کو جمعے کے روز کریملن کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ان کے قتل کے الزام میں تاحال کوئی گرفتاری عمل نہیں آئی۔روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بورس نیمتسوو کی ہلاکت کو نفرت انگیز اور ان کے قاتلوں کو حقیر قرار دیتے ہوے کہا تھا کہ وہ ہلاکت میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔صدر نے اس معاملے کی ذاتی طور پر نگرانی کا فیصلہ بھی کیا ہے تاہم بورس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان کے قتل کی وجوہات سیاسی ہیں اور اس کا تعلق ولادیمیر پوتن کی مخالفت اور یوکرین کے تنازع سے ہی ہے۔

دوسری جانب حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی فوری، غیر جانبدار اور موثر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ’ملک میں کھلے عام تنقید کرنے والوں میں سے ایک اور جنھیں حکام خاموش کرانا چاہتے تھے میں سے ایک کے ظالمانہ انداز میں قتل کی فوری تحقیقات ہونی چاہیے۔‘

04-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان