سپریم کورٹ نے پنجاب‘ سندھ اور کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد بارے حتمی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
تاریخ اشاعت: 2015-03-04
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:01:42 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:17 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:21 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:23 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:27 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:29 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

سپریم کورٹ نے پنجاب‘ سندھ اور کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد بارے حتمی شیڈول کے تحریری نوٹیفکیشن کی کاپیاں اور پانچ سال تک بلدیاتی انتخابات نہ کرانے بارے الیکشن کمیشن سے 24 گھنٹوں میں تحریری وضاحت طلب کرلی، ملکی حالات دیکھ کر سوچتا ہوں کہ مجھے اپنے گھر چلے جانا چاہئے‘ بلدیاتی نمائندے نہ ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے،جسٹس جواد ایس خواجہ ،بتایا جائے کہ وفاق اور صوبے کس کے آگے جوابدہ ہیں‘ لوگوں کا جینا اجیرن ہوچکا ‘ قانون میں سقم بھی ہو‘ وفاق اور صوبے نیا قانون نہ بھی بنائیں تب بھی الیکشن کمیشن پر یہ قرض ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کرائے ‘ قانون پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے آج کے شہری تھرڈ کلاس شہری بن چکے ہیں‘ حکومت نے شہریوں کومال مویشی سے بھی کم درجہ دے رکھا ہے‘ حکومت اگر کہے کہ تمام یونین کونسلوں میں گدھوں اور مویشیوں کی گنتی کرنی ہے تب بھی انتخابات ہوں گے۔ ریمارکس ،مقدمے کی سماعت (آج) تک ملتوی، تمام تر نوٹیفکیشن طلب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔4 مارچ۔2015ء) سپریم کورٹ نے پنجاب‘ سندھ اور کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد بارے حتمی شیڈول کے تحریری نوٹیفکیشن کی کاپیاں اور پانچ سال تک بلدیاتی انتخابات نہ کرانے بارے الیکشن کمیشن سے 24 گھنٹوں میں تحریری وضاحت طلب کی ہے‘ تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دئیے کہ ملکی حالات دیکھ کر سوچتا ہوں کہ مجھے اپنے گھر چلے جانا چاہئے‘ بلدیاتی نمائندے نہ ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے‘ بتایا جائے کہ وفاق اور صوبے کس کے آگے جوابدہ ہیں‘ لوگوں کا جینا اجیرن ہوچکا ہے‘ اس شہری کیلئے مرنے کا مقام ہے جو اپنی بچی کے داخلے کیلئے ب فارم بغیر پیسوں اور رشوت کے نہیں بنواسکتا‘ قانون میں سقم بھی ہو‘ وفاق اور صوبے نیا قانون نہ بھی بنائیں تب بھی الیکشن کمیشن پر یہ قرض ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کرائے‘ الیکشن کمیشن واضح طور پر بتادے کہ کچھ بھی ہوجائے وہ بے بس ہے اور انتخابات نہیں کراسکتا‘ قانون پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے آج کے شہری تھرڈ کلاس شہری بن چکے ہیں‘ حکومت نے شہریوں کومال مویشی سے بھی کم درجہ دے رکھا ہے‘ حکومت اگر کہے کہ تمام یونین کونسلوں میں گدھوں اور مویشیوں کی گنتی کرنی ہے تب بھی انتخابات ہوں گے۔

انہوں نے یہ ریمارکس منگل کے روز دئیے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ لوگ جائیں بھاڑ میں الیکشن نہیں کرانے‘ آئین کہتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات ہوں گے ان لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ آج ہم توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔ ایک ہی طریقہ بادل نخواستہ رہ گیا ہے۔ ہم تاریخیں دے دے کر تھک گئے‘ مزید احکامات نہیں اب کچھ اور ہی ہوگا۔ بتادیں کہ آئین کو بالائے طاق رکھا جاسکتا ہے یا نہیں‘ تو چل میں گیا‘ یہ ہوگیا وہ ہوگیا‘ اگر اب انتخابات نہیں ہوں گے تو اگلے دس سال بعد بھی الیکشن نہیں ہوں گے۔

الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ الیکیشن کرائے۔ ساری کی ساری سیفٹی کمیشن اور کمیٹیاں غیر فعال ہیں کیونکہ بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جائیں۔ سکول ٹیچر نے خط لکھا ہے اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کی وجہ سے انتخابات میں بھی تاخیر ہوئی ہے۔ جسٹس جواد نے اکرم شیخ سے پوچھا کہ انہوں نے ایک خط پڑھا ہے۔ یہ خط بلند آواز میں پڑھیں‘ آپ سمیت ہم سب اللہ کے حضور معافی کے خواستگار ہیں کہ ملک میں کیا ہورہا ہے۔

اکرم شیخ نے خط پڑھ کر سنایا کہ سکول ٹیچرز (ب) فارم منگواتے ہیں یونین کونسلوں کے دفاتر کا یہ حال ہے کہ افسران پانچ ہزار روپے رشوت مانگتے ہیں اور جو لوگ رشوت نہیں دے سکتے وہ سارا دن خواری کرکے گھر چلے جاتے ہیں۔ بلدیاتی نمائندے نہ ہونے کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے۔ گریڈ 17 کے افسر تلاش کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ ہم تو کوشش کررہے ہیں ہم تو نامراد رہے ہیں آج بتادیں تاکہ ہم آرڈر جاری کرسکیں۔

اکرم شیخ نے کہا کہ آپ معاونت کریں کہ ہم کیا حکم جاری کریں۔ وفاق اور چاروں صوبے کس کے آگے جوابدہ ہیں۔ اس طرح کے ناجانے کتنے خطوط مجھے آتے ہیں۔ لوگوں کا جینا اجیرن ہوگیا ہے۔ بظاہر چھوٹی چیز ہے مگر اس ٹیچر کیلئے مرنے کا مقام ہے۔ وہ کہاں سے فارم تصدیق کروائے اور کس کے پاس جائے۔ اپنے کونسلر کی مدد سے ہی وہ کام کراسکے گا مگر اب وہ تو ہیں نہیں کس سے مدد حاصل کرے‘ پانچ سال ہوگئے کوئی احساس کرنے کو تیار نہیں۔

خواجہ حارث کہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے پولیس کیخلاف شکایات پڑی ہیں‘ سیفٹی کمیشن غیر فعال اور ناکارہ ہیں۔ کراچی میں اربوں روپے کی پراپرٹی بیثی جارہی ہے۔ سانگھڑ کا کیس بھی موجود ہے۔ بلدیاتی ادارے نہیں ہیں کہ 750 ارب روپے وصول کرکے اپنے حلقوں میں خرچ کئے جاسکیں۔ جس ضلع میں گیس اور تیل برآمد ہوا ہے اس ضلع کے لوگ بھوکے بھی مر رہے ہیں اور پانی کے ذخائر بھی آلودہ ہیں۔ بعض اوقات میں سوچتا ہوں کہ مجھے ان حالات میں گھر چلے جانا چاہئے۔

اکرم شیخ نے کہاکہ 2014ء میں سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے فیصلہ دیا تھا ہم تو چاہتے ہیں کہ الیکشن ہوں۔ الیکشن کمیشن کو جو مشکلات درپیش ہیں وہ اس میں درج کی گئی ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل پر فیصلہ دیا گیا تھا۔ حلقہ بندیاں نہیں کرائی گئیں۔ جسٹس جواد نے کہا کہ آپ دیکھ لیں ہمارا آئین یہ نہیں کہتا۔ اکرم شیخ نے کہا کہ آپ کو اپنے فیصلے پر نظرثانی یا ری وزٹ کرنا ہوگا۔ آئینی پروویژنز قابل عمل نہیں ہیں اس کیلئے نیا قانون بنانا پڑے گا۔

جسٹس جواد نے کہا کہ یہ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ آئین تو بظاہر کچھ اور ہی کہتا ہے اس حوالے سے سابق چیف جسٹس اور دیگر ججز سے معذرت کیساتھ کہوں گا۔ اکرم شیخ نے کہا کہ اگر آپ نے اس معاملے کو ری وزٹ کرنا ہے تو اس کیلئے چار ججوں سے زائد ججز پر مشتمل لارجر بنچ قائم کرنا ہوگا۔ جب آپ الیکشن کمیشن کو نئی ہدایات جاری کریں گے آپ کی ہدایات پر مکمل عمل کردیا جائے گا۔ اس فیصلے میں صوبائی حکومتوں کو حلقہ بندیاں کرانے کا اختیار دیا گیا تھا اور الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کرنا تھا آپ اس فیصلے کو ری وزٹ کرسکتے ہیں۔

یہ عدالت کا کنونشن ہے اور ایسا کیا جانا غیرقانونی نہیں ہوگا۔ الیکشن کمیشن عدالت کے تمامتر احکامات پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ آئین پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔ ہم نے جو آئینی آرٹیکلز 140 اے‘ 216‘ 217‘ 218 اور 219 کو پرکھا تھا اس فیصلے میں بتائیں اسکا کہاں ذکر ہے۔ اکرم شیخ نے کہا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے سیکشن 8 سے 10 آئین سے متصادم ہیں۔ جسٹس جواد نے کہا کہ آرٹیکلز کا جائزہ نہیں لیا گیا اسلئے الیکشن کمیشن انتخابات کرانے کا پابند ہے۔

اگر کوئی سرکار قانون سازی نہیں کرتی یا قانون بناتی ہے جو آپ کیخلاف بھی ہو یا قانونی سقم بھی موجود ہو تب بھی الیکشن کرانے سے آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اگر قانون ساز ادارے کہتے ہیں کہ یونین کونسلوں میں گدھوں اور مال مویشی کو گنا جائے اور سب کی تفصیل آئے تو تب الیکشن ہوں گے۔ یکے بعد دیگرے قانون سازی ہورہی ہے مگر اس حوالے سے چھان بین نہیں ہورہی۔ ایک قانون بناتے ہیں دوسرا اس سے بڑھ کر اور قانون بنادیتے ہیں۔

یہ لامتناہی سلسلہ ہے۔ عدالت کے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

04-03-2015 :تاریخ اشاعت