رات بھر لمبی کال والی65لاکھ موبائل سمزبائیو میٹرک تصدیق نہ ہونے نہ انکشاف ،بلاک ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
- مزید خبریں

لاہور

تلاش کیجئے

رات بھر لمبی کال والی65لاکھ موبائل سمزبائیو میٹرک تصدیق نہ ہونے نہ انکشاف ،بلاک ہونیوالی 80 فیصد سمز کارڈ دیہی علاقوں15فیصد شہری جبکہ5 سے 6فیصد سرحدی علاقوں کی حدود میں استعمال ہوئیں

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔2 مارچ۔2015ء)حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد جاری نیشنل ایکشن پلان کے دوران پاکستان بھر کے موبائل صارفین کے زیر استعمال موبائل سمز کی بائیومیٹرک تصدیق کے پہلے مرحلے کے اختتام پر 2کروڑ23لاکھ موبائل سمز کی بائیو میٹرک تصدیق نہ ہوسکنے کے بعد اس بلاک کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔پی ٹی اے سے وابستہ ایک سینئر آفیسر نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ 26فروری تک بائیو میٹرک تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے بلاک ہونے والی سمز میں ایسی65لاکھ سمز بھی موجود ہیں جس پر پاکستانی وقت کے مطابق رات 10بجے سے لیکر صبح4 بجے تک لمبی گفتگو ریکارڈ کی گئی۔

بلاک ہونے والی سمز کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں صارفین کو موبائل سروسز فراہم کرنے والی تین بڑی کمپنیز کی طرف سے جاری ایسی سمز پر ایس ایم ایس اور سستے پیکچ کالز کی سہولتیں موجود پائی گئیں۔تاہم مذکورہ سمز کے 80 فیصد صارفین کا تعلق دیہی علاقوں سے 15فیصد شہری جبکہ5 سے 6فیصد سرحدی علاقوں کی حدود رات بھر لمبی کالیں کرتے رہے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ65لاکھ سمز کارڈز 2011 سے اگست2014 تک خریدی گئیں ۔جبکہ ایسے قومی شناختی کارڈ بھی سامنے آئے ہیں جن پر24 سے زائد سمز کارڈز ایشو کروائے گئے ہیں۔

02-03-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان