امریکی کانگریس میں ہوم لینڈ سکیورٹی کے لیے صرف ہفتے بھر کی رقوم منظور
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
- مزید خبریں

تلاش کیجئے

امریکی کانگریس میں ہوم لینڈ سکیورٹی کے لیے صرف ہفتے بھر کی رقوم منظور

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔2 مارچ۔2015ء)امریکی کانگریس نے ایک بل کی منظوری دی ہے، جس کے تحت ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے کو صرف ایک ہفتے کے لیے رقوم فراہم کرنے کے لیے کہا گیا ہے، اور یوں یہ ادارہ، جو انسداد دہشت گردی کی ذمہ داریاں بجا لاتا ہے، عارضی طور پر بند ہونے سے بچ گیا ہے۔ایوانِ نمائندگان کے قانون سازوں نے جمعے کی رات گئے یہ فوری اقدام کیا، جس کی 60 ارکان نے مخالفت، جب کہ 357 کی دو تہائی اکثریت نے منظوری دی، جس سے قبل سینیٹ بھی اِسی بِل کو منظور کر چکا ہے۔

بعد میں، صدر اوباما نے وائٹ ہاوٴس میں اِس پر دستخط کیے۔ مزید کسی ڈیڈلائن پر پورا نہ اترنے کے خدشے سے بچنے کے لیے اب کانگریس کے پاس آپسی اختلافات دور کرنے کے لیے ہفتے کا وقت موجود ہے۔اِس ضمن میں، ایوان اور سینیٹ کی جانب سے فنڈ مختص کرنے کی میعاد جمعے کو نصف رات ختم ہونے والی تھی؛ اور کوئی اقدام نہ کرنے کی صورت میں، ادارے کے ملازمین کے لیے رقوم کی فراہمی رْک جاتی، جِن میں سرحد پر گشت کرنے والے اہل کار، ہوائی اڈوں کی اسکریننگ اور امریکی کوسٹ گارڈ کے ارکان شامل ہیں۔

اگر کانگریس یہ بِل منظور نہ کرتی تو تقریباً 30000 کارکن ’فرلو‘ پر جانے پر مجبور ہوتے، جب کہ 240000 دیگر ملازمین بغیر تنخواہ خدمات انجام دیتے۔محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو سال بھر کے لیے رقوم کی فراہمی جماعتی بنیادوں پر ایک متنازع معاملے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ریپبلیکن پارٹی کے ارکان، جنھیں دونوں ایوان میں اکثریت حاصل ہے، اْن کی کوشش ہے کہ اِمی گریشن پر صدر براک اوباما کے انتظامی حکم نامے کو واپس لیا جائے، جس کے تحت غیر قانونی طور پر امریکہ میں موجود افراد کی ملک بدری ممکن نہیں۔

02-03-2015 :تاریخ اشاعت