اقتدار میں عاجزی کی ضرورت ہے ،اگر نوازشریف اپناتے تو مشکلات درپیش نہ آتیں، آصف ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
تاریخ اشاعت: 2015-03-02
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

اقتدار میں عاجزی کی ضرورت ہے ،اگر نوازشریف اپناتے تو مشکلات درپیش نہ آتیں، آصف زرداری ،کل تک کچھ لوگ شاہراہ دستور پر دھرنا دیئے بیٹھے تھے اور آج 22ویں ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ میں آنا چاہتے ہیں ،عنقریب انتخابات بارے وائٹ پیپر جاری کرینگے، بلاول سے کوئی اختلاف نہیں، باپ بیٹے میں بھلا کیا اختلاف ہوسکتاہے اور پھر جس کا صرف ایک ہی بیٹا ہو ،سابق صدر کی سربراہ جے یو آئی ف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو ،اپنے لوگوں پر عدم اعتماد نہیں کرسکتے، آصف زرداری سے سندھ میں علماء کی گرفتاریوں کا معاملہ اٹھایا ہے،مولانا فضل الرحمن،دونوں رہنماؤں میں سیاسی صورتحال سمیت سینیٹ انتخابات ،خیبرپی کے میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ، ہارس ٹریڈنگ روکنے سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیا ل

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔2 مارچ۔2015ء)سابق صدر آصف علی زرداری نے کہاہے کہ اقتدار میں عاجزی کی ضرورت ہے ،اگر میاں نوازشریف اپناتے تو مشکلات درپیش نہ آتیں جبکہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ اپنے لوگوں پر عدم اعتماد نہیں کرسکتے، شریک چیئرمین پیپلزپارٹی سے سندھ میں علماء کی گرفتاریوں کا معاملہ اٹھایا ہے،دونوں رہنماؤں کی میڈیا کوبریفنگ ،اتوار کے روزجمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔

اس موقع پر آصف علی زرداری راجا پرویز اشرف، شیری رحمن، ڈاکٹر قیوم سومرو و دیگر مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ مولانافضل الرحمن کی رہائش گاہ پر پہنچے تو سربراہ جے یو آئی نے پیپلزپارٹی کے وفد کا استقبال کیا۔ بعدازاں ملکی سیاسی صورتحال سمیت سینیٹ انتخابات ،خیبرپی کے میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ، ہارس ٹریڈنگ روکنے سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیا ل کیاگیا۔ ملاقات کے مولانافضل الرحمن کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے آصف علی زرداری نے عمران خان کا نام لئے بغیر کہاکہ کل تک کچھ لوگ شاہراہ دستور پر دھرنا دیئے بیٹھے تھے اور آج 22ویں ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ میں آنا چاہتے ہیں ، الیکشن پر ہمیں بھی تحفظات تھے لیکن جمہوریت کی مضبوطی کیلئے ہم نے کردار ادا کیا عنقریب تمام انتخابات کے حوالے سے وائٹ پیپر جاری کرینگے۔

سابق صدر نے مزید کہاکہ کہ سابق دور میں بھی سینیٹ انتخابات ہوئے اور بلامقابلہ اس لئے انتخابات کرائے کہ ہم نے اقتدار کو عاجزی کے ساتھ اپنایا اگر میاں نوازشریف بھی جھک کر کام لیتے تو مشکلات درپیش نہ ہوتیں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ سابق دور میں جب بلامقابلہ انتخاب کیاگیا تو بھی میڈیا کے کچھ دوستوں نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ یہ پارٹی اجارہ داری ہے لیکن آج ہارس ٹریڈنگ کا شور مچایا جارہاہے۔

انہوں نے بلاول بھٹو زرداری سے اختلاف بارے سوال پر آصف علی زرداری نے اس معاملے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ باپ بیٹے میں بھلا کیا اختلاف ہوسکتاہے اور جس کا صرف ایک ہی بیٹا ہو تو پھر اس سے کس طرح اختلاف کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے ناراض رہنما ذوالفقار مرزا کے سوال بارے کہاکہ ذوالفقار مرزا کے بارے میں وہی کہوں گا جو بے نظیر نے فاروق لغاری کے بارے میں کہاتھا ۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ وقت آنے پر پیپلزپارٹی کی چیئرمین شپ بلاول کے حوالے کردونگا۔

بعدازاں میڈیا سے گفتگو کے دوران مولانافضل الرحمن نے کہاکہ آصف زرداری سے قومی ایکشن پلان کی آڑ میں سندھ میں گرفتاریوں کا معاملہ اٹھایا ہے۔ کیونکہ قومی ایکشن پلان کی آڑ میں علماء کی گرفتاریوں پر ہمیں سخت تشویش ہے۔ انہوں نے ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہاکہ ہم سے زیادہ ہارس ٹریڈنگ کا کون مخالف ہوسکتاہے لیکن اپنے لوگوں پر عدم اعتماد نہیں کرسکتااور نہ ہی اس حوالے سے مجھے اپنے لوگوں پر کسی قسم کا عدم اعتماد ہے ۔

انہوں نے مزید کہاکہ عمران خان آئینی ترمیم کو گائے کے طور پر استعمال کرکے ایوان کے گھر میں آناچاہتے ہیں مگر ہم کسی کو آئینی ترمیم کو گائے نہیں بنانے دینگے۔ قبل ازیں ملاقات کے دوران سنیٹر سردار علی ،شیری رحمن ،ڈا کٹر قیوم سومرو نے آصف علی زرداری کی معاونت کی جبکہ محمد اکرم خان در انی ،مو لا نا عطاء الرحمن ،مو لا نا لطف الرحمن ،مفتی ابرار احمد نے مو لا نا فضل الرحمن کی معاونت کی دونوں جماعتوں میں اس بات پر اتفاق پا یا گیا کہ سینٹ کے انتخا بات کے پو لنگ کے سواتمام مراحل مکمل ہو نے کے بعد 22ویں تر میم کی ضرورت نہیں پی پی پی اور جے یوآئی نے اسمبلی میں تر میم لا نے پر حمایت نہ کر نے کا فیصلہ کیا دونو ں جماعتوں نے اپس میں رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا ملاقات میں سینٹ کے انتخا بات کے موقع پر دو نو ں جماعتوں کے در میان تعاون پر بھی غور کیا گیا۔

02-03-2015 :تاریخ اشاعت