حکومت کی مشکلات میں اضافہ ،مولانا فضل الرحمان نے 22ویں آئینی ترمیم کا حصہ بننے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار مارچ

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-03-01
تاریخ اشاعت: 2015-03-01
تاریخ اشاعت: 2015-03-01
تاریخ اشاعت: 2015-03-01
تاریخ اشاعت: 2015-03-01
تاریخ اشاعت: 2015-03-01
تاریخ اشاعت: 2015-03-01
تاریخ اشاعت: 2015-03-01
تاریخ اشاعت: 2015-03-01
تاریخ اشاعت: 2015-03-01
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

حکومت کی مشکلات میں اضافہ ،مولانا فضل الرحمان نے 22ویں آئینی ترمیم کا حصہ بننے سے پھر انکار کردیا ، ایسا لگتا ہے جیسے ایک ناراض بندہ گائے کی دم پکڑ کر واپس گھر آنا چاہتا ہے، انتخابی اصلاحات کمیٹی کا بائیکاٹ نہ کیا جاتا تو آج اسکی نوبت ہی نہیں آتی،ایسی قانون سازی نہ کی جائے جو کسی ایک مخصوص طبقہ کے خلاف ہو،تحریک انصاف والے اگر پارلیمنٹ میں آتے ہیں تو انہیں اجنبی تصور کیا جائے گا ،سربراہ جے یو آئی ف کی حکومتی وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو ،وزیر اعظم ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کیلئے کوشاں ہیں، وزیر اعظم کے کہنے پر ہم مولا نا کے پاس آئے ہیں انکے تحفظا ت بارے وزیر اعظم کو آگاہ کریں گے ، پرویز رشید

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔یکم مارچ۔2015ء)جمعیت علماء اسلام (ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 22ویں آئینی ترمیم کا حصہ بننے سے ایک مرتبہ پھر انکار کر سے ہوئے کہا ہے کہ اگر انتخابی اصلاحات کمیٹی کا بائیکاٹ نہ کیا جاتا تو آج اسکی نوبت ہی نہیں آتی،ایسی قانون سازی نہ کی جائے جو کسی ایک مخصوص طبقہ کے خلاف ہو، ایسا لگتا ہے کہ جیسے ایک ناراض بندہ گائے کی دم پکڑ کر واپس گھر آنا چاہتا ہے،تحریک انصاف والے اگر پارلیمنٹ میں آتے ہیں تو انہیں اجنبی تصور کیا جائے گا کیو نکہ انکی رکنیت ختم ہو چکی ہے جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ وزیر اعظم ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کیلئے کوشاں ہیں وزیر اعظم کے کہنے پر ہم مولا نا فضل الرحمان کے پاس آئے ہیں انکے تحفظا ت کے بارے میں وزیر اعظم کو آگاہ کر ینگے ۔

تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو اسلام آباد میں وفاقی وزراء خواجہ سعد رفیق اور پرویز رشید نے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی اور سینٹ الیکشن ، ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کیلئے 22ویں ترمیم لانے کی حکومتی کوششوں اور اس حوالے سے جے یو آئی ف کے تحفظات دور کرنے اور انہیں اعتماد

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

01-03-2015 :تاریخ اشاعت