پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا واپڈا میں 83 کروڑسے زائد مالی بدعنوانیوں پر اظہا ر برہمی،بجلی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا واپڈا میں 83 کروڑسے زائد مالی بدعنوانیوں پر اظہا ر برہمی،بجلی چوری سب سے زیادہ پشاور الیکٹرک سٹی اور حیسکو میں ہوئی ، گرمیوں میں لائن لاسز 20 فیصد تک پہنچ جاتے ہیں، اجلا س میں انکشا ف ،ملک بھر سے بجلی چوری کی روک تھام کے لیے سمارٹ میٹر لگائے جائینگے،اس مقصد کے لئے امریکہ نے مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے منصوبہ کا پی سی ون بن چکا ہے اور جون جولائی سے ملک بھر میں پرانے میٹروں کی جگہ نئے سمارٹ میٹر تنصیب کئے جائینگے،سیکرٹری پانی و بجلی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 28فروری۔2015ء) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے واپڈا کے مالی سال 2007-08ء میں 83 کروڑ سے زائد مالی بدعنوانیوں پر شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ لوٹی ہوئی رقم فوری ریکور کی جائے ۔ سیکرٹری پانی و بجلی یونس ڈھاگہ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر سے بجلی چوری کی روک تھام کے لیے سمارٹ میٹر لگائے جائینگے اور اس مقصد کے لئے امریکہ نے مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے اس منصوبہ کا پی سی ون بن چکا ہے اور جون جولائی سے ملک بھر میں پرانے میٹروں کی جگہ نئے سمارٹ میٹر تنصیب کئے جائینگے پی اے سی میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ بجلی چوری سب سے زیادہ پشاور الیکٹرک سٹی اور حیسکو میں ہوئی ہے حیسکو میں گرمیوں میں لائن لاسز 20 فیصد تک پہنچ جاتے ہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس عاشق گوپانگ کی صدارت میں ہوا جس میں عذرا پیچوہو اور شیخ روحیل اصغر نے شرکت کی ۔

اجلاس میں واپڈا مالی سال 2007-08ء کے 46پیراؤں پر آڈٹ اعتراضات پر بحث کی گئی پی اے سی نے 14پیروں کو غیر موثر قرار دے دیا پی اے سی کو بتایا گیا کہ ہر سال کروڑوں روپے کا بجلی سامان چوری ہوتا ہے جو آج تک برآمد نہیں ہوسکا اور پولیس کی کارکردگی اس حوالے سے معتبر ہے پی اے سی میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بعض کمپنیاں اپنا خسارہ کم کرنے کے لئے بجلی صارفین کے بلوں میں اضافی رقم اور یونٹس ڈال دیئے ہیں پی اے سی نے فیسکو میں صارفین کو زائد

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

28-02-2015 :تاریخ اشاعت