پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا واپڈا میں 83 کروڑسے زائد مالی بدعنوانیوں پر اظہا ر برہمی،بجلی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا واپڈا میں 83 کروڑسے زائد مالی بدعنوانیوں پر اظہا ر برہمی،بجلی چوری سب سے زیادہ پشاور الیکٹرک سٹی اور حیسکو میں ہوئی ، گرمیوں میں لائن لاسز 20 فیصد تک پہنچ جاتے ہیں، اجلا س میں انکشا ف ،ملک بھر سے بجلی چوری کی روک تھام کے لیے سمارٹ میٹر لگائے جائینگے،اس مقصد کے لئے امریکہ نے مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے منصوبہ کا پی سی ون بن چکا ہے اور جون جولائی سے ملک بھر میں پرانے میٹروں کی جگہ نئے سمارٹ میٹر تنصیب کئے جائینگے،سیکرٹری پانی و بجلی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 28فروری۔2015ء) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے واپڈا کے مالی سال 2007-08ء میں 83 کروڑ سے زائد مالی بدعنوانیوں پر شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ لوٹی ہوئی رقم فوری ریکور کی جائے ۔ سیکرٹری پانی و بجلی یونس ڈھاگہ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر سے بجلی چوری کی روک تھام کے لیے سمارٹ میٹر لگائے جائینگے اور اس مقصد کے لئے امریکہ نے مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے اس منصوبہ کا پی سی ون بن چکا ہے اور جون جولائی سے ملک بھر میں پرانے میٹروں کی جگہ نئے سمارٹ میٹر تنصیب کئے جائینگے پی اے سی میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ بجلی چوری سب سے زیادہ پشاور الیکٹرک سٹی اور حیسکو میں ہوئی ہے حیسکو میں گرمیوں میں لائن لاسز 20 فیصد تک پہنچ جاتے ہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس عاشق گوپانگ کی صدارت میں ہوا جس میں عذرا پیچوہو اور شیخ روحیل اصغر نے شرکت کی ۔

اجلاس میں واپڈا مالی سال 2007-08ء کے 46پیراؤں پر آڈٹ اعتراضات پر بحث کی گئی پی اے سی نے 14پیروں کو غیر موثر قرار دے دیا پی اے سی کو بتایا گیا کہ ہر سال کروڑوں روپے کا بجلی سامان چوری ہوتا ہے جو آج تک برآمد نہیں ہوسکا اور پولیس کی کارکردگی اس حوالے سے معتبر ہے پی اے سی میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بعض کمپنیاں اپنا خسارہ کم کرنے کے لئے بجلی صارفین کے بلوں میں اضافی رقم اور یونٹس ڈال دیئے ہیں پی اے سی نے فیسکو میں صارفین کو زائد بلنگ کرکے اپنے خسارہ کو کم کرنے پر اظہار برہمی کیا آڈٹ حکام نے کہا کہ بعض فیڈر کے نقصانات زیرو کرکے کاررکردگی بہتر کرنے کی کوشش ہے پی اے سی نے کہا کہ واپڈا کے ترسیلی نظام پرانا ہے اس لئے خسارہ زیرو ہونا ناممکن ہے ۔

پی اے سی نے واپڈا ملازمین اور افسران کو مفت بجلی فراہمی پر اظہار ناراضگی کیا ہے اور اس پالیسی کو بدلنے پر زور دیا ہے ممبر پی اے سی شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ واپڈا افسران کے اے سی دن رات چلتے ہیں اور نقصان صارفین ادا کرتے ہیں ۔ سیکرٹری واپڈا یونس ڈھاگہ نے کہا کہ ملک بھر سے بجلی میٹر کی تبدیلی کی منصوبہ ہے اور امریکہ اس کے لئے مالی مدد فراہم کررہا ہے اس منصوبے کا پی سی ون تیار کرلیا ہے جون اور جولائی میں اس منصوبے پر حتمی فیصلہ ہوجائے گا اور سمارٹ میٹر تنصیب کرینگے جس سے بجلی چوری کم ہوگی ۔

آڈٹ حکام نے فیسکو میں ٹرانسفارمر اور دیگر سامان کی چوری کی نشاندہی کی جس سے قومی خزانہ کو آٹھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے واپڈا سامان کی چوری پر پولیس بھی ایکشن نہیں لیتی جس وجہ سے سامان برآمد نہیں ہوتا پی اے سی پی پیراز پر مزید تحقیقات کے لئے آڈٹ حکام کو بھیج دیا اور سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ چوری شدہ سامان کی برآمدگی کے لیے ایکشن لیں آڈٹ حکام نے واپڈا کمپنیوں میں سات کروڑ روپے کی صنعتوں کے صارفین سے ریکوری کی نشاندہی کی ہے پی اے سی نے بتایا کہ حیسکو میں لائن لاسز 23فیصد ہیں نیپرا نے 22 فیصد کی اجازت دے رکھی ہے ۔

28-02-2015 :تاریخ اشاعت