سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے پارلیمانی جماعتوں میں اتفاق نہ ہوسکا، ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
تاریخ اشاعت: 2015-02-28
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے پارلیمانی جماعتوں میں اتفاق نہ ہوسکا، پیپلزپارٹی، جے یو آئی (ف) نے آئینی ترمیم کی مخالفت کردی، پیسے دے کر ووٹ خریدنا مکروہ کاروبار ہے ، ضمیر فروشی کے اس کاروبار کو بند کرنا ہوگا ،نواز شریف، ایوان بالا کو ایسے عناصر سے پاک کرنا ہوگا،ہمیں مل بیٹھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ ضمیر فروشی کے اس کاروبار کو بند کرنا ہے، اجلاس سے خطاب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 28فروری۔2015ء) سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے پارلیمانی جماعتوں کے درمیان اتفاق نہ ہوسکا اور پیپلزپارٹی، جے یو آئی (ف) نے آئینی ترمیم کی مخالفت کردی۔وزیراعظم نوازشریف کی سربراہی میں پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ، سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف، وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف، وزیرخزانہ اسحاق ڈار، ایم کیو ایم کی جانب سے ڈاکٹر فاروق ستار،بابرغوری اور رشید گوڈیل شریک ہوئے جب کہ دیگر رہنماوٴں میں محمود خان اچکزئی، اعجاز الحق، آفتاب احمد خان شیرپاوٴ، عارف علوی،حاصل بزنجو، اٹارنی جنرل ، وزیراعظم کے آئینی و قانونی ماہرین اور سیاسی مشیروں نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں آئینی ترمیم پر غور کیا گیا تاہم اس دوران پارلیمانی جماعتوں میں ترمیم پر اتفاق نہ ہوسکا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور جے یو آئی (ف) نے آئینی ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ ترمیم کو انتخابی اصلاحاتی کمیٹی میں پیش کیا جائے جب کہ سیاسی جماعتیں آئینی ترمیم کے بجائے اپنے اندر نظم و ضبط پیدا کریں اور ترمیم پارٹی مفاد کے بجائے ملکی مفاد میں کی جائے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے پیر کو آئینی ترمیم پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت سے ترمیم کو پیش کیا جائے گا۔پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات سے قبل ہارس ٹریڈنگ کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اس لئے سب کو مل کر سینیٹ کا تقدس برقرار رکھنا ہوگا اور ضمیر فروشی کے کاروبار کو روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پیسے دے کر ایوان بالا میں آنا انتہائی افسوسناک ہے، سینیٹ انتخابات میں شفافیت کا انتخابی اصلاحات سے گہرا تعلق ہے اور ہر جماعت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ مکروہ فعل روکنے کے لئے مل کر کام کریں۔

دوسری جانب اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

28-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان