کوٹ رادھا کشن میں اینٹوں کے بھٹے میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے کے مقدمے میں آئی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:04:23 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:04:29 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:04:31 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:09:56 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:09:57 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:10:00 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

کوٹ رادھا کشن میں اینٹوں کے بھٹے میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے کے مقدمے میں آئی جی پنجاب کی رپورٹ مسترد ،سپر یم کورٹ کا برہمی کا اظہار، 9 مارچ کو مقدمے کے تفتیشی افسر اور پراسیکیورٹر کو تمام تر ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 27فروری۔2015ء) سپریم کورٹ نے کوٹ رادھا کشن میں اینٹوں کے بھٹے میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے کے مقدمے میں آئی جی پنجاب کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا ہے اور 9 مارچ کو مقدمے کے تفتیشی افسر اور پراسیکیورٹر کو تمام تر ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا ہے یہ حکم جمعرات کو جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے جاری کیا ہے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پولیس چاہے تو پتھروں کو بھی زبان دے دے اور بڑے بڑے مجرموں کو تھانے طلب کر لے مگر یہاں تو ذمہ داروں کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ جبکہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ریاست عوام کے بنیادی حقوق کی محافظ ہے جن کا مقدمے میں کوئی مدعی نہ ہو اس کی مدعی ریاست ہوتی ہے۔ مسیحی جوڑے کو زندہ جلا دیا گیا اور پولیس 2 گھنٹے تاخیر سے پہنچی۔ بڑی اچھی بات ہے کہ اتنے ملزمان میں سے صرف پولیس کے دو افسران کو سزا دی گئی۔

انہوں نے یہ ریمارکس گزشتہ روز دیئے ہیں دوران سماعت آئی جی پنجاب کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی اور پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ وقوعہ 6 بجے ہوا اور پولیس 8 بجے پہنچ سکی۔ اہل علاقہ کی پانچ مساجد کے مولویوں نے لاؤڈ سپیکروں پر اعلان کیا کہ مسیحی لوگ نعوذ باللہ قرآن مجید کو جلا دیا ہے اس لئے سب اکٹھے ہو جائیں جس پر بری تعداد میں لوگ اکٹھے ہو گئے جو پولیس کے بس کا روگ نہیں تھے۔ مسیحی جوڑے کے وارث نے بتایا کہ وہ مقامی لوگوں سے خوفزدہ تھے اس لئے خود مدعی بننے کی بجائے انہوں نے پولیس کو مدعی بنایا جس پر جسٹس عظمت نے کہا کہ انہیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں مدعی ریاست ہے اور ریاست اپنی عوام کے حقوق کی محافظ ہے۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت 9 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے مقدمے کے تفتیشی اور پراسیکیوٹر کو تمام تر ریکارڈ سمیت طلب کیا ہے۔

27-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان