روس کا اگلا ہدف مولدووا ہو سکتا ہے، نیٹوکمانڈر کا انتباہ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
- مزید خبریں

تلاش کیجئے

روس کا اگلا ہدف مولدووا ہو سکتا ہے، نیٹوکمانڈر کا انتباہ

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 27فروری۔2015ء)نیٹو کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے گزشتہ روز خبردار کیا ہے کہ یوکرائن کے ساتھ تنازعہ کے بعد روس مولدووا کو مغرب کیساتھ جانے سے روکنے کیلئے اس پر اپنی نظریں جما سکتا ہے۔کیپیٹل ہل میں سماعت کے دوران جنرل فلپ بریڈ لوف نے امریکی اراکین پارلیمنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولدووا ماسکو کا ہدف ہوسکتا ہے۔انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ کونسے ملک کو روس یوکرائن کے بعد ہدف بنا سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ کہاں سے مضبوط معلوماتی مہم سامنے آرہی ہے اور ایسا مولدووا اور دیگر مقامات میں ہورہا ہے۔

بریڈلوف نے ایوان کی آرمڈ سروسز کو مولدووا اور یوکرائن کے درمیان ٹوٹنے والی ریاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرانسنسٹریامیں روسی فورسز موجود ہیں تاکہ مولدووا کو مغرب سے ملنے کیلئے روکا جاسکے۔کمانڈر نے یہ بھی کہا کہ روس اور یوکرائن میں علیحدگی پسند باغیوں کے درمیان تنازعات جاری رہ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ہم میں سے کوئی یقین سے کہہ سکتا ہے کہ پیوٹن نے یوکرائن کے اندر اپنے مقاصد پورے کرلئے ہیں۔جمہوریہ مالدووا جو یوکرائن اور رومانیہ کے درمیان واقع ہے کی آبادی 3.5ملین نفوس پر مشتمل ہے،یورپین نواز جماعتوں نے گزشتہ انتخابات میں روسی نواز حریفوں کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی۔

27-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان