غازی عبدالرشید قتل کیس ،پرویز مشرف کی استثنیٰ ایک دفعہ پھر مسترد،عدالت نے دس ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

غازی عبدالرشید قتل کیس ،پرویز مشرف کی استثنیٰ ایک دفعہ پھر مسترد،عدالت نے دس مارچ کو طلب کرلیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 27فروری۔2015ء) غازی عبدالرشید قتل کیس میں عدالت نے پرویز مشرف کی استنثیٰ ایک دفعہ پھر مسترد کرتے ہوئے دس مارچ کو طلب کرلیا ۔ جمعرات کے روز ایڈیشنل سیشن جج واجد علی کی عدالت میں ہونے والی سماعت میں اختر شاہ ایڈووکیٹ نے پرویز مشرف کی عدالت میں طلبی کے حوالے سے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میرے موکل کو کوئٹہ کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں حاضری سے استثنیٰ مل چکی ہے ۔

انہوں نے حاضری سے استثنیٰ کے حوالے سے وجوہات بتاتے ہوئے عدالت سے کہا کہ پرویز مشرف کو سکیورٹی کے سنگین خدشات لاحق ہیں مختلف ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق غازی فورس سمیت مختلف تنظیمیں پرویز مشرف پر حملہ کرسکتی ہیں جبکہ ایف ایٹ کچہری میں پہلے ہی گزشتہ سال مارچ میں ہوچکا ہے دوسری وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف شدید بیمار ہیں جس کے باعث وہ کراچی سے اسلام آباد تک کا سفر نہیں کرسکتے لال مسجد کے وکیل طارق اسد نے وکیل اختر شاہ کے موقف پر سخت ر دعمل دکھاتے ہوئے اکیس فروری کو کراچی میں پرویز مشرف ک ایک تقریب کئے جانے والے ڈانس کے حوالے سے ویڈیو سی ڈی عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی بیمار شخص محفل میں ڈانس کرسکتا ہے مشرف نے توہین عدالت کی ہے مشرف تعزیت کرنے کلئے سعودی عرب تو جانا چاہتے ہیں لیکن عدالت کے بار بار طلبی پر بیماری اور سکیورٹی کا بہانہ بنا کر عدالت میں پیش نہیں ہوتے ۔

اس دوران دونوں طرف کے وکلاء کی جانب سے لفظی جنگ پر عدالت کا ماحول تلخ ہوا جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب لوگوں نے آپس میں الجھنا ہے تو میں چلا جاتا ہوں ۔ طارق اسد نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ پرویز مشرف عدالت کو خوفزدہ کرنے اور دباؤڈالنے کے لیے بار بار کہہ چکے ہیں فوج میرے پیچھے ہے اور میرا ساتھ دے رہی ہے یہ عدالت کے خلاف اعلان جنگ ہے سکیورٹی خدشات صرف مشرف کو ہی نہیں یہاں پر بیٹھے جج صاحبان اور وکیلوں کو بھی لاحق ہیں کیا ان کی جان اور خون ہم لوگوں سے زیادہ قیمتی ہے یہاں اگر حملہ ہوتا ہے تو ہم بھی مارے جاسکتے ہیں بعد ازاں عدالت نے پرویز مشرف کی حاضری سے استثنیٰ مسترد کرتے ہوئے ان کی جانب سے دائر تین درخواستوں پر بھی فیصلہ محفوظ کرلیا اگلی سماعت دس مارچ تک کے لیے ملتوی کردی گئی ۔

27-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان