سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد بارے پنجاب‘ سندھ‘ کے پی کے حکومت اور ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد بارے پنجاب‘ سندھ‘ کے پی کے حکومت اور الیکشن کمیشن سے آج تک حتمی تاریخ مانگ لی،صوبے اور الیکشن کمیشن واضح کرے کہ وہ کب تک بلدیاتی انتخابات کرا دیں گے۔ عدالت بلدیاتی انتخابات نہ کرانے‘ پبلک سیفٹی کمیشن غیر فعال ہونے سے شہریوں کو درپیش مشکلات پر آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔ مزید وقت نہیں دیا جا سکتا۔ بلدیاتی انتخابات نہ کرانے اور عدالتی حکم پر عمل درامد نہ کروانے پر صوبوں کو خمیازہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے،عدالت کا حکم، آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے سیاستدانوں سمیت کوئی بھی کسی بھی مجبوری کے تحت آئین کو بالائے طاق نہیں رکھ سکتا،جسٹس جواد ایس خواجہ ،سندھ میں سیاسی بنیادوں پر حد بندیاں نہیں ہو سکتیں یہ سب ریونیو اسٹیٹ کے تحت ہی ہونا ہے،جسٹس سرمد جلال عثمانی کے ریمارکس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 27فروری۔2015ء) سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد بارے پنجاب‘ سندھ‘ کے پی کے حکومت اور الیکشن کمیشن سے 24 گھنٹوں میں حتمی تاریخ مانگ لی ہے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ صوبے اور الیکشن کمیشن واضح کرے کہ وہ کب تک بلدیاتی انتخابات کرا دیں گے۔ عدالت اس بات کا بھی تعین کرے گی کہ جو احکامات عدالت نے نے گاہے بگاہے بلدیاتی انتخابات کرانے کے حوالے سے جاری کئے تھے ان پر حکومتوں نے کس حد تک عمل کیا ہے اور بلدیاتی انتخابات مین تاخیر کا سبب بننے والے ذمہ داروں کے خلاف کیا آئینی و قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

صوبوں نے ایک بار پھر وقت مانگا ہے مگر عدالت بلدیاتی انتخابات نہ کرانے‘ پبلک سیفٹی کمیشن غیر فعال ہونے سے شہریوں کو درپیش مشکلات پر آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔ اس لئے مزید وقت نہیں دیا جا سکتا۔ بلدیاتی انتخابات نہ کرانے اور عدالتی حکم پر عمل درامد نہ کروانے پر صوبوں کو خمیازہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ یہ حکم جمعرات کے روز جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے جاری کیا۔ جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ صوبے جان بوجھ کر عدالت کو مجبوریوں اور مسائل کی بھول بھلیوں میں ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو ان کے اختیارات منتقل کرنے کے لئے بلدیاتی انتخابات نہ کرائیں۔

آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے سیاستدانوں سمیت کوئی بھی کسی بھی مجبوری کے تحت آئین کو بالائے طاق نہیں رکھ سکتا۔ سمجھ میں نہیں آتا صوبے بلدیاتی انتخابات کرانے سے کیوں خائف ہیں کیا وہ عام لوگوں کو ملنے والے اختیارات سے خوفزدہ ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کرانا آرٹیکل 140 اے کے تحت آئینی تقاضا ہے جس پر ہر صورت عمل کرنا ہو گا۔ اگر حکومتوں نے آئین کی پیروی نہیں کرنی تو پھر سب کو کھلے عام لاقانونیت کی اجازت دے دیں۔

جبکہ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سندھ میں سیاسی بنیادوں پر حد بندیاں نہیں ہو سکتیں یہ سب ریونیو اسٹیٹ کے تحت ہی ہونا ہے۔ سندھ حکومت 2016ء کی تاریخ کیوں دے رہی ہے جبکہ پنجاب اور سندھ نے بلدیاتی انتخابات کرانے کے لئے کوئی بھی تاریخ مقرر کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ بلدیاتی انتخابات بارے کیس کی سماعت جمعرات کے روز جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں جسٹس سرمد جلال عثمانی پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے کی۔

اس دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے اکرم شیخ جبکہ پنجاب اور سندھ کی جانب سے متعلقہ ایڈووکیٹ جنرل پیش ہوئے۔ حکومت پنجاب اور سندھ نے عدالتی حکم کے مطابق اپنے اپنے جوابات پیش کئے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ بلوچستان بار کی درخواست تھی اور انہوں نے ہی انتخابات کرا دیئے ہیں اس کے دور رس نتائج ہیں ہمارے سامنے ہر روز کیس آتا ہے مسئلہ واضح ہے حیدر علی کیس میں بھی خواجہ حارث کو عدالتی معاون مقرر کیا انہوں نے بتایا کہ دربدر مارے پھرنے والے انجمن متاثرین تشدد پولیس کے ممبر ہونے چاہئیں کیونکہ بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے ہیں پبلک سیفٹی کمیشن ایک موثر طریقہ ہے عوام الناس کی شنوائی کے لئے پولیس کے پاس ان کی شنوائی نہیں ہے تو وہ لوگ پبلک سیفٹی کمیشن کے پاس چلے جائیں گے وہ وفاقی اور صوبائی سطح پر کمیٹیاں موجود ہیں مگر بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے کمیٹیاں 6 سال سے زائد ہو چکے ہیں غیر فعال ہیں حکومتیں آئین کی پابند ہیں اس کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے۔

ہر صوبہ اپنے علاقے میں بلدیاتی انتخابات کرائے گا اور ماتحت لوگوں کو اختیارات کی منتقلی کرے گا۔ اپریل 2010ء سے اب تک بلدیاتی ا نتخابات نہیں کرائے گئے 5 سال کا عرصہ گزر گیا مشکل ترین علاقے بلوچستان میں تو بلدیاتی انتخابات کرا دیئے گئے باقی صوبے نہیں کرا رہے ہیں وہاں پر 3 مرحلے میں مکمل ہو گئے ہیں کے پی کے نے بھی شیڈول دے دیا تھا سندھ ایڈووکیٹ جنرل فتح ملک سے پوچھا کہ بتایئے صوبگے کی آئینی و قانونی طور پر بلدیاتی انتخابات بارے کیا ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ آئین پر یقینی رکھتے ہیں اگر ایسا ہے تو آپ دونوں صوبوں کے لا افسران اونچا پولیس زبان سے اقرار خالی نہیں ہے عملی طور پر بتائیں کہ آپ نے اب تک کیا کیا ہے۔

اگر آپ آئین کے پابند ہیں 140 اے کیا کہتا ہے۔ رزاق اے مرزا آئین پڑھ کر سنائیں جو انہوں نے پڑھ کر سنایا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ نے آرٹیکل پر عملدرامد کرا دیا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا نظام لاگو کر دیا گیا ہے یا نہیں رزاق اے مرزا نے کہا کہ پہلے تھا اب نہیں ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ عنان اقتدار میں بیٹھے لوگ آئین کو تسلیم کرتے ہیں آپ نے کہا ہاں ہم نے آپ کو آرٹیکل 140 اے پڑھنے کو کہا آپ نے پڑھنا شروع کیا۔

پنجاب میں لوکل گورنمنٹ سسٹم لاگو ہے یا نہیں اگر نہیں یہ قانون کی خلاف ورزی ہے ابھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تاخیر نہیں کیا ہے۔ دشواریوں کی وجہ سے کیا آئینی تقاضے کو بالائے طاق رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔ مجبوری کی وجہ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ آئین پر عمل کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ منطق کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے بلدیاتی نظام لاگو کیا جائے پھر سیاسی تحریک اور معاشی مضبوطی کی بات ہو گی۔ کیا یہ عجیب نہیں ہو گا کہ بلدیاتی نظام تو لاگو نہیں ہوا اور لوگوں کو اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔

یہی سوال انہوں نے فتح ملک سے بھی کیا اور کہا کہ آپ نے بھی سن لیا ہے آپ بھی آئین کے پابند ہیں بلدیاتی انتخابات کرانا آئین کا تقاضا ہے کیا سندھ میں یہ نظام لاگو ہے اگر نہیں ہے تو آپ کی حکومت کو سراہتے ہیں اختیارات کی منتقلی تو جب ہو گی جب نظام لاگو ہو گا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ کیا آئین کی کچھ شقیں ہیں کہ جن کے تحت یہ آئینی معاملہ کسی مجبوری کے تحت زیر التواء رکھا جا سکے۔ کامران مرتضیٰ نے کہا تھا کہ سندھ اور پنجاب اگر آئین کو بالائے طاق رکھ سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں رکھ سکتے۔

قانون سے نابلد ہونا الگ بات ہے مگر آئین و قانون پر عمل کرنا ہر فرد اور ادارے کی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان کو چھوٹا صوبہ سمجھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے حکم پر عمل کریں گے پھر بڑے صوبے کریں گے اکر م شیخ الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہوئے اور سابقہ حکم پڑھ کر سنایا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ سندھ اور پنجاب بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے حتمی تاریخ دیں گے۔ وفاق نے اسلام آباد اور کنٹونمنٹ بورڈز میں انتخابات کرانا ہیں سندھ اور پنجاب دونوں اس حوالے سے سنجیدہ نہیں ہیں۔

عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات بارے بل پیش کرنے کا معاملہ بارے پوچھا اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد بھٹی نے بتایا کہ ابھی تک بل پیش نہیں کیا گیا اکرم شیخ نے کہا کہ سندھ اور پنجاب کے معاملات الیکشن کمیشن میں پیش کر دیئے جائیں گے سندھ حکومت کہتی ہے کہ 2016ء تک تو بلدیاتی انتخابات کی بات نہ کریں۔ کہتے ہیں کہ حد بندیاں کی جانی ہیں اس حوالے سے کوئی قانون بھی پیش نہیں کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ چیف سیکرٹری سندھ کہاں ہیں؟ آئے نہیں اس پر اے جی سندھ نے بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف کراچی پہنچے ہیں اور سیکیورٹی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہونا ہے وہ وہاں ہیں اکرم شیخ نے کہا کہ پنجاب کا موقف یہ تھا کہ 6 اضلاع کا ریکارڈ نہیں دیا گیا بادل ناخواستہ سندھ نے تعمیل کی پنجاب نے نومبر 2015ء میں انتخابات کرانے کا کہا ہے پنجاب کے 6 اضلاع کا ریکارڈ اب لاہور میں جمع کروا دیا گیا ہے۔

سندھ کا جواب ہمیں نہیں مل سکا ہے اے جی سندھ نے کہا کہ کاپی بھجوا دی گئی ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ معاملہ سنجیدہ نوعیت کا ہے۔ اگر آئین کی پیروی نہیں کرنی تو ہر کسی کو اجازت دے دیں کہ وہ بھی قانون کی خلاف ورزی کرتا پھرے۔ سب سے پوچھنتا چاہئیں گے کہ اگلے اقدامات کیا ہوں گے اگر آئین کی پاسداری صوبائی حکومتیں نہیں کرتیں اور ہمارے احکامات ایسے ہیں کہ جن کی پیروی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

27-02-2015 :تاریخ اشاعت