اپنے بل بوتے پر پاکستان اگلے تین سال میں بجلی بحران پر قابو پا لے گا ، نواز شریف،پاکستان ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
تاریخ اشاعت: 2015-02-27
پچھلی خبریں -

کراچی

تلاش کیجئے

اپنے بل بوتے پر پاکستان اگلے تین سال میں بجلی بحران پر قابو پا لے گا ، نواز شریف،پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے، یہ ملک کاروبار کے لھاظ سے محفوظ ہے ، کم لاگت سے بجلی بنانے کے منصوبے حکومت کی ترجیح ہے،ملک کی معاشی ترقی ہماری ترجیحات میں شامل ہے ،خطے میں معاشی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ،پاکستان کو امن و امان کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے لیکن ہمارے ارادے مصمم اور مضبوط ہیں، کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کو ادھورا نہیں چھوڑیں گے اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے ،دہشت گرد بھول جائیں گے کہ ان سے کوئی رعایت کی جائے گی،صنعت و تجار ت سے متعلق پالیسوں کے تسلسل کو برقرا رکھا جائیگا ،معیشت اور امن و امان کے لئے خصوصی اقدامات کر رہے ہیں ، پاکستان سرمایہ کاری کے لئے محفوظ اور مہمان نواز ملک ہے ،غیر ملکی سرمایہ کاری ابھی سے پاکستان میں منصوبے لگانا شروع کر دیں ،ایران اورانڈونیشیا کے ساتھ ترجیحی تجارت کے معاہدے کو حتمی شکل دی جا چکی ہے ،مراکش اور ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ بھی ترجیحی تجارت کا معاہدہ کریں گے، اگلے تین سال میں برآمدات 50ارب ڈالر تک لے جائیں گے ۔ کراچی ایکسپو سینٹر میں 9 ویں ”ایکسپو پاکستان“نمائش کی افتتاحی تقریب ،چین سے حاصل کئے گئے طیارے پاک فضائیہ میں شامل کرنے کی تقریب سے خطاب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 27فروری۔2015ء) وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے اور یہ ملک کاروبار کے لھاظ سے محفوظ ہے ، کم لاگت سے بجلی بنانے کے منصوبے حکومت کی ترجیح ہے ، اپنے بل بوتے پر پاکستان اگلے تین سال میں بجلی بحران پر قابو پا لے گا ،ملک کی معاشی ترقی ہماری ترجیحات میں شامل ہے ،خطے میں معاشی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ،پاکستان کو امن و امان کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے لیکن ہمارے ارادے مصمم اور مضبوط ہیں، کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کو ادھورا نہیں چھوڑیں گے اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے ،دہشت گرد بھول جائیں گے کہ ان سے کوئی رعایت کی جائے گی،صنعت و تجار ت سے متعلق پالیسوں کے تسلسل کو برقرا رکھا جائیگا ،معیشت اور امن و امان کے لئے خصوصی اقدامات کر رہے ہیں ، پاکستان سرمایہ کاری کے لئے محفوظ اور مہمان نواز ملک ہے ،غیر ملکی سرمایہ کاری ابھی سے پاکستان میں منصوبے لگانا شروع کر دیں ،ایران اورانڈونیشیا کے ساتھ ترجیحی تجارت کے معاہدے کو حتمی شکل دی جا چکی ہے ،مراکش اور ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ بھی ترجیحی تجارت کا معاہدہ کریں گے، اگلے تین سال میں برآمدات 50ارب ڈالر تک لے جائیں گے ۔

وہ جمعرات کو کراچی ایکسپو سینٹر میں 9 ویں ”ایکسپو پاکستان“نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر ہے تھے ۔اس موقع پر وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر ، وفاقی وزیر برائے پانی ،توانائی اور دفاع خواجہ محمد آصف ،گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ،وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ ،سینٹر عبدالحسیب ،بزنس مین گروپ کے سربراہ سراج قاسم تیلی سمیت غیر ملکی سفارت کار اور اہم شخصیات کی کثیر تعداد موجود تھیں ۔

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو خوشحال ملک بنانا چاہتے ہیں یہاں دیگر شعبوں میں لامحدود کاروباری مواقع موجود ہیں،تین سال کے لئے ٹریڈ پالیسی فریم ورک کا اعلان کیا گیا ہے ،ٹیکس ادائیگی کے طریقہ کار کو آسان بنایا جا رہا ہے تاکہ تاجروں کا اس حوالے سے سہولت دی جا سکے ،صنعت و تجار ت سے متعلق پالیسوں کے تسلسل کو برقرا رکھا جائیگا ۔ا نہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء فری ٹریڈ کے تحت بھی کاروباری معاہدہ موجود ہے ، یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس پاکستان کی بڑی کامیابی ہے ، چین سری لنکا اور ملائیشیا کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کئے ،ایران ،انڈونیشیا کے ساتھ ترجیحی تجارت کا معاہدہ کر رہے ہیں اس حوالے سے معاہدے کو حتمی شکل دی جا چکی ہے ،کم لاگت سے بجلی بنانے کے منصوبے حکومت کی ترجیح ہے ، اپنے بل بوتے پر بجلی بحران پر قابو پا لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ممالک اور کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کریں گے، کوئلے اور ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس پر تیزی سے کام کر رہے ہیں ،انشاء اللہ اگلے تین برس تک پاکستان کو لوشیڈنگ سے چھٹکارا دلوائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اقتدار سنبھالنے کے بہت سی مشکلات پیش آئیں اور ان مشکلات کا مقابلہ کررہے ہیں، خوشی ہے کہ ہم درست سمت جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کراچی کو پرامن بنانے کے لئے یہاں ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا ہے یہ آپریشن جلد شروع ہوجانا چاہیے تھا یہ پہلے کیوں نہیں کیا گیا ؟ ہم کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کو ادھورا نہیں چھوڑیں ،کراچی کی عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ 2018 ء تک کراچی پرامن شہر ہوگا اور چھینی گئی روشیوں کو واپس لائیں گے ۔

کراچی سے لیکر خیبر تک قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جائیگا اور اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ایک زمانے میں کراچی روشنیوں کا شہر تھا ،یہ ایک پرامن شہر تھا یہاں خوشحالی تھی ہم دوبارہ اس شہر کو امن کا گہورا بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں آپریشن تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد شروع کیا ہے ،اسلحہ کے ناجائز استعمال کو برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایکسپو پاکستان کی تقریب میں شرکت میرے لئے اعزاز کی بات ہے ،پاکستان ایکسپو میں بڑی تعداد میں غیر ملکی مہمان موجود ہیں خوش آمدید کہتا ہوں،نمائش پاکستان کی صنعتی ثقافت کا عکاس ہے ،یہ پاکستانی کی صنعتی روایت ہے ، نمائش کا ہونا ثبوت ہے کہ کراچی خطہ میں کاروباری اہمیت کا حامل ہے ،اس نمائش سے پاکستانی مصنوعات کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کا موقع ملا ہے،میڈ ان پاکستان برانڈ کو دنیا پھر میں پذیرائی حاصل ہو گی ،پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کو دینا بھر میں سراہا جا رہا ہے اور امید ہے کہ2019ء تک ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات 26ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی،نمائش سے بیرونی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے اس سال بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اس نمائش سے بیرونی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا،وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکسٹائل پالیسی پر نظر ثانی کی ہے اور تاجروں کو سہولت دینے کے لئے ٹیکس کے نظام کو آسان کر دیا ہے ،انہوں نے کہا کہ پاکستان کاروبار کے لحاظ سے محفوظ ملک ہے اور ایک ابھرتی ہوئی معیشت کا ملک ہے ،پاکستان کی برآمدات بڑھے گی تو معیشت مضبوط ہوگی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کاروبار کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے،پاکستان کی انڈسٹری کو دنیا بھر میں سراہا جاتاہے، اگلے تین برسوں میں برآمدات کو50 ارب ڈالر تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں گے،2013-14 کے درمیان 25 ارب ڈالر تک کی برآمدات کی گئی ہے ،ٹیکسٹاٹل برآمدات 2019 تک 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 26 ارب ڈالر تک لے لیکر جائیں گے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی کو کاروبار کے لحاظ سے مرکزی اہمیت حاصل ہے،حکومت معیشت اور امن وامان کے حوالے سے خصوصی اقدامات کررہے ہیں ،کاروبار کے لحاظ سے پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ،ہمسایہ ممالک میں معاشی سرگرمیاں کافی تیز ہیں ،کر۔

قبل ازیں وفاقی وزیر خرم دستگیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایکسپو پاکستان نمائش عالمی برادری کو پاکستان کی اصل شکل دکھانے کے لئے ہے،معاشی بحالی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،انہوں نے کہا کہ علاقائی تجارت کے فروغ کے لئے رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں،دیگر ممالک سے آزاد اور ترجیحی تجارت کے خواہاں ہیں، وفاقی وزیر نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لئے میکنزم تشکیل دے دیا ہے،چین کے ساتھ تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت صنعت کاروں اور کسانوں کو سہولتیں فراہم کررہی ہے،خطے کے ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے دن رات کوششیں کررہے ہیں ،پاکستان کو خوشحالی ملک دیکھنا چاہتے ہیں بعد ازاں وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ بہت ضروری ہے اس سے پہلے کہ یہ ہماری ترقی ، سماجی اقدار ، بین الاقوامی کردار اور قومی سلامتی کو مزید نقصان پہنچائے، پاکستان ایک پر امن ملک ہے ، ہم اپنے قومی مفادات کی حفاظت کیلئے ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں،پاک فضائیہ فضائی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتی ہے، ٹارگٹ کو دور سے دیکھنے کی صلاحیت کے حامل طیارے کی شمولیت سے ملک کی فضائی سرحدیں مضبوط ہوں گی، پاک فضائیہ کا دنیا کی بہترین فضائی افواج میں شمار ہوتا ہے۔

وہ جمعرات کو کراچی کے دورے کے موقع پر پاک فضائیہ کے نمبر 04 سکواڈرن کوچین سے حاصل کئے گئے جدید ترین قراقرم ایگل اواکس سے لیس کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ تقریب پاک فضائیہ کے آپریشنل بیس میں منعقد کی گئی۔تقریب میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ، پاک فضائیہ کے سر براہ ائیر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ ،وزارت دفاع اور پاک افواج کے اعلیٰ عہدیداران اور نمبر4 سکواڈرن کے سابقہ سکواڈرن کمانڈروں نے بھی شرکت کی ۔

تقریب کا آغاز پریڈ سے ہوا اور وزیراعظم پاکستان نے پریڈ کا معائنہ کیا اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان نے نمبر 4سکواڈرن کی شاندار خدمات کے اعتراف میں سکواڈرن کمانڈر کو سکواڈرن کا علم عطا کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہاکہ پاک فضائیہ کی تاریخ قربانیوں ، مہارت اور شجاعت کے کارناموں سے لبریز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ کا اپنے بہادرانہ اور جراتمندانہ کردار کی وجہ سے دنیا کی بہترین فضائی افواج میں شمار ہوتا ہے۔

پاک فضائیہ ہر مشکل گھڑی میں قوم کی توقعات پر پوری اتری ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ بہت ضروری ہے اس سے پہلے کہ یہ ہماری ترقی ، سماجی اقدار ، بین الاقوامی کردار اور قومی سلامتی کو مزید نقصان پہنچائے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ پاک فضائیہ نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں نمایاں حصہ لیا اور یہ ملکی دفاع کو لاحق کسی بھی بیرونی اور اندرونی دشمن کے خطرے سے نمٹنے کیلئے ہر دم تیار ہے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاک فضائیہ نے جس طرح دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اس پر پوری قوم کو فخر ہے ۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور بین الاقوامی برادری خصوصاًاپنے ہمسایوں سے پر امن تعلقات چاہتا ہے۔ تاہم ہم اپنے قومی مفادات کی حفاظت کیلئے ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج کا یہ اہم واقعہ نہ صرف نمبر 4سکواڈرن اور پاک فضائیہ کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے بلکہ ساری پاکستانی قوم کے لئے بھی باعث افتخار ہے کہ پاک فضائیہ قائد اعظم کے ویژن کے مطابق دنیا کی بہترین فضائی قوت بننے کے لئے جدید جنگی ہتھیاروں سے لیس ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سکواڈرن میں اس جدید طیارے کی شمولیت سے پاک فضائیہ انشاء اللہ ملکی فضائی سرحدوں کو درپیش خطرات سے بطریقِ احسن نمٹے گی اور اس سے ملکی دفاع میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قراقرم ایگل اواکس طیارے کی پاک فضائیہ میں شمولیت سے پاک فضائیہ ایک جدید ہمہ جہت اور بہترین قابلیت کی حامل فضائی قوت میں تبدیل ہو رہی ہے۔قبل ازیں اس موقع پر اس شاندار سکواڈرن کی تاریخ اور کارناموں پر مشتمل ایک ڈاکیومنٹری فلم بھی دکھائی گئی جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔

بعد ازاں قراقرم ایگل اواکس طیاروں کی ایک فارمیشن نے سلامی پیش کی ۔پاک فضائیہ کے مطابق قراقرم ایگل اواکس فضائی اور بحری اہداف کو طویل فاصلے سے دیکھ سکتا ہے ۔یہ زمینی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر ز سے رابطے میں رہتا ہے اور انہیں مکمل تصویر بھجواتا ہے۔ اس طیارے کی شمولیت سے پاکستان کا ائیر ڈیفنس نظام دشمن کے علاقے میں دور تک دیکھنے کے قابل ہو گیا ہے خواہ یہ اہداف زمین پر ہوں یا گہرے پانیوں میں دشمن کو جاننے کے بعد اواکس اپنے لڑاکا طیاروں کو اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے بھیج سکتا ہے تاکہ اپنے اثاثہ جات کو نقصان پہنچنے سے پہلے انکا قلع قمع کیا جا سکے۔ سمندروں میں دشمن کو پہچاننے کی صلاحیت کی بدولت پاک بحریہ کی استعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔

27-02-2015 :تاریخ اشاعت