پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بیرون ملک تعینات پریس انفارمیشن آفیسرز کے ڈومیسائل اور ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
- مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بیرون ملک تعینات پریس انفارمیشن آفیسرز کے ڈومیسائل اور تعیناتیوں کی وزارت اطلاعات سے تفصیلات طلب کرلیں،کمیٹی نے نئی گاڑیوں اور موبائل فونز کی خریداری پر ریڈیو ٹیکس لگانے کی تجویز التواء میں ڈال دی،ریڈیو پاکستان کی کارکردگی2ماہ میں بہتر بنانے کی ہدایت، پی ٹی وی سالانہ 5 ارب روپے لائسنس فیس کی مد میں صارفین سے وصولنے کے باوجود 80کروڑ روپے خسارہ میں کیوں جا رہے ہیں، کمیٹی کا ایم ڈی پی ٹی وی سے استفسار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 26فروری۔2015ء) قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے بیرون ملک تعینات پریس انفارمیشن آفیسرز کے ڈومیسائل اور تعیناتیوں کی وزارت اطلاعات سے تفصیلات طلب کرلیں، کمیٹی نے نئی گاڑیوں اور موبائل فونز کی خریداری پر ریڈیو ٹیکس لگانے کی تجویز التواء میں ڈال دی،ریڈیو پاکستان کی کارکردگی2ماہ میں بہتر بنانے کی ہدایت، پی ٹی وی سالانہ 5 ارب روپے لائسنس فیس کی مد میں صارفین سے وصولنے کے باوجود 80کروڑ روپے خسارہ میں کیوں جا رہے ہیں، کمیٹی کا ایم ڈی پی ٹی وی سے استفسار ۔

کمیٹی کا اجلاس بدھ کو چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیاگیا۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ نے مغل بادشاہ نور الدین جہانگیرکے مقبرہ کی مرمت کیلئے 96لاکھ کا ٹینڈر خلاف ضابطہ جاری کیا، جس پر پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر چوہدری اعظم نے موقف اختیار کیا کہ اشتہارات کا خرچہ بچانے کیلئے پہلے سے کام کرنے والے ٹھیکیدار کو ٹھیکہ دیا گیا تھا۔

پی اے سی کا ریڈیو پاکستان کو 2009 سے اب تک کے اکاؤنٹ تفصیلات پی اے سی کے سامنے پیش کرنے کا حکم ، ریڈیو پاکستان میں نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن کے وقت 4000روپے ریڈیو ٹیکس اور نئے موبائل خریدنے پر بھی ریڈیو ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی گئی، یہ عمران گردیزی نے دی ہے۔ ڈی جی ریڈیو نے کمیٹی کو بتایا کہ پینشنز کی ادائیگیوں کیلئے رقم نہیں ہے، ہمیں پینشن کی ادائیگی کیلئے ہر سال ایک ارب روپے درکار ہوتے ہیں، پینشن ادا کرنے کیلئے وزارت خزانہ سے سات ارب روپے مانگے ہیں، ریڈیو پاکستان کو نجی شعبے کے اشتہارات سے چلانا ہو گا، نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور موبائل کی خریداریوں پر ریڈیو ٹیکس لگ جائے تو مسائل حل

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

26-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان