ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے حالیہ واقعات میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی ملوث ہے،مقصد ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے حالیہ واقعات میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی ملوث ہے،مقصد تنظیم کے ارکان کی پھانسیاں رکوانے کے لیے حکومت پر دباوٴ ڈالنا ہے، ۔ وزارتِ داخلہ، کالعدم تنظیم نے کارروائیوں کے لیے القاعدہ سے بھی مدد مانگی تھی، انکار پر اس نے تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔لشکرِ جھنگوی جیلوں میں قید اپنے شدت پسندوں کی رہائی کے لیے عام لوگوں کو یرغمال بھی بنا سکتی ہے، صوبوں کو خط

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 26فروری۔2015ء )حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے حالیہ واقعات میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی ملوث ہے جس کا مقصد تنظیم کے ارکان کی پھانسیاں رکوانے کے لیے حکومت پر دباوٴ ڈالنا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق وفاقی وزارتِ داخلہ کی طرف سے صوبوں کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ اس کالعدم تنظیم نے کارروائیوں کے لیے القاعدہ سے بھی مدد مانگی تھی اور وہاں سے انکار پر اس نے تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق لشکرِ جھنگوی نے جیلوں میں قید اپنے شدت پسندوں کی رہائی کے لیے عام لوگوں کو یرغمال بھی بنا سکتی ہے۔وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب کے علاقے کبیر والا کے ایک شخص عبدالرحمان کو پنجاب میں لشکر جھنگوی کی کارروائیوں کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور اس نے لاہور سمیت مختلف علاقوں بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کی ہوئی ہے۔خط میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے اس تنظیم کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاوٴن کے بعد اس کے ارکان نے القاعدہ سے مدد مانگی تھی تاہم القاعدہ کے ذمہ داران نے عراق اور شام میں مصروفیت کی وجہ سے لشکرِ جھنگوی کی مدد کرنے سے معذوری ظاہر کر دی تھی۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے انکار کے بعد تنظیم نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ سے رابطہ کیا جنھوں نے نہ صرف لشکر

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

26-02-2015 :تاریخ اشاعت