پاکستان میں ویکسین کے ناقص انتظام پر اقوام متحدہ کو تشویش،حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

تلاش کیجئے

پاکستان میں ویکسین کے ناقص انتظام پر اقوام متحدہ کو تشویش،حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو بچپن کی بیماریوں کے خلاف موثر بنائے‘ اقوام متحدہ کا پاکستان پر زور

پشاور ( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 26فروری۔2015ء ) اقوامِ متحدہ نے ملک میں ”حفاظتی ٹیکوں کے انتظام کے کمزور نظام“ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ معیاری طرزعمل کو اپناتے ہوئے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو بچپن کی بیماریوں کے خلاف موٴثر بنائے۔گزشتہ سال عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور یونیسیف کے زیرِاہتمام کی جانب سے مشترکہ طور پر کیے گئے ایک سروے حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی کے سلسلے میں ہر سطح پر اس کے انتظامات کے مختلف شعبوں میں اہم کمزوریوں کی نشاندہی کی تھی۔

اقوام متحدہ کے ان دونوں اداروں نے اس خلاء سے نمٹنے کے لیے اقدامات کی سفارش کی تھی۔اس سروے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سطح پر ویکسین کی فراہمی کے مجموعی تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویکسین کی فراہمی کے مینجمنٹ سسٹم کے بہت سے شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں حفاظتی ٹیکوں کے انتظام کو موٴثر بنانے کے لیے طے شدہ اصولوں میں سے صرف ایک پر عمل ہوتا ہے۔سروے کے مطابق تمام سطح پر مطلوبہ معیاری کارکردگی 80 فیصد ہے۔

اس ملک کو حفاظتی ٹیکوں اور تجارتی اشیاء کی درآمد میں 80 فیصد سے زیادہ مطلوبہ معیار کی ضرورت ہے، جبکہ ویکسین کو اسٹور کرنے کے درجہ حرارت، سرد اور خشک اسٹوریج کی استعداد، عمارات، آلات، ٹرانسپورٹ، دیکھ بھال، اسٹاک مینجمنٹ کا انتظام، اور معاون انتظامات جیسے آٹھ مطلوبہ معیارات ہیں جو حفاظتی ٹیکوں کو موٴثر بنانے کے لیے ضروری

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

26-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان