دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنے کیلئے مرو یا مارو اور اب نہیں تو کبھی نہیں کے جذبے سے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
تاریخ اشاعت: 2015-02-26
پچھلی خبریں -

لاہور

تلاش کیجئے

دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنے کیلئے مرو یا مارو اور اب نہیں تو کبھی نہیں کے جذبے سے لڑنا ہوگا، وزیر اعلیٰ پنجاب،قوم نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قربانیوں کی تاریخ رقم کی ،مزید قربانیاں بھی دینا ہو گی ،انشا اللہ وہ دن بھی جلد آئے گا جب اس نا سور کا مکمل خاتمہ اور صفایا ہو جائے گا،حکومت ،عسکری قیادت دہشتگردی کیخلاف جنگ میں مکمل یکسو ہے ،دہشتگردی کا خاتمہ صرف بندوق کی گولی سے ممکن نہیں ، غربت بیروزگاری کے خاتمے ،تعلیم کے فروغ اور علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کی گولیاں بھی چلانا ہوں گی ، انتہا پسندی صرف مدارس سے نہیں جڑی ہوئی ،یہ چند یونیورسٹیوں، کالجز ،دفاتر، کارخانوں میں بھی ہے ،یہ کسی مخصوص جگہ کا نہیں بلکہ ذہنیت کا نام ہے جسکے خاتمے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں، مدارس ، سکولوں ، کالجز اور یونیورسٹیوں میں صبروتحمل ،برداشت اور ایک دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ رکھنے کے حوالے سے مضامین کو نصاب کا حصہ بنانے پر کام شروع ہو چکا ہے ،پنجاب کے پانچ بڑے شہروں میں سیف سٹی کا منصوبہ شروع کرنے جارہے ہیں ،آغاز لاہور سے ہوگا ،ایک ہزار بائیو میٹرک مشینیں ، گاڑیوں کی چیکنگ کیلئے سکینرز تین سے چار ہفتوں میں پاکستان پہنچ جائینگے ،شہباز شریف کی ماڈل ٹاؤن پریس کانفرنس

لاہور( اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار. 25 فروری 2015ء)وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے مرو یا مارو اور اب نہیں تو کبھی نہیں کے جذبے سے لڑنا ہو گا ،قوم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے اور مزید قربانیاں بھی دینا ہو گی اور انشا اللہ وہ دن بھی جلد آئے گا جب اس نا سور کا مکمل خاتمہ اور صفایا ہو جائے گا،حکومت اور عسکری قیادت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مکمل یکسو ہے ،دہشتگردی کا خاتمہ صرف بندوق کی ایک گولی سے ممکن نہیں بلکہ اسکے لئے غربت اور بیروزگاری کے خاتمے ،تعلیم کے فروغ اور علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کی گولیاں بھی چلانا ہوں گی ، انتہا پسندی صرف مدارس سے نہیں جڑی ہوئی بلکہ یہ چند یونیورسٹیوں، کالجز ،دفاتر، کارخانوں میں بھی ہے ،یہ کسی مخصوص جگہ کا نہیں بلکہ ذہنیت کا نام ہے جسکے خاتمے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں، مدارس ، سکولوں ‘ کالجز اور یونیورسٹیوں میں صبروتحمل ‘برداشت اور ایک دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ رکھنے کے حوالے سے مضامین کو نصاب کا حصہ بنانے پر کام شروع ہو چکا ہے ،پنجاب کے پانچ بڑے شہروں میں سیف سٹی کا منصوبہ شروع کرنے جارہے ہیں اور اس کا آغاز لاہور سے ہوگا،ایک ہزار بائیو میٹرک مشینیں اور گاڑیوں کی چیکنگ کے لئے سکینرز تین سے چار ہفتوں میں پاکستان پہنچ جائیں گے ۔

ان خیالات کا اظہارا نہوں نے گزشتہ روز 180ایچ ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن ‘ صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ ‘ سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان ‘ صوبائی وزیر اوقا ف عطا مانیکا ‘ زعیم حسین قادری اور دیگر بھی موجود تھے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی راتوں رات نہیں آئی اور یہ راتوں رات ختم بھی نہیں ہو گی بلکہ اسکے خاتمے کے لئے بھی وقت درکار ہے اور ہمیں صبر و تحمل سے یہ جنگ لڑنا ہوگی ،میں مایوسی کی بات نہیں کر رہا ، پاکستانی قوم نے اس جنگ میں قربانیاں دے کر تاریخ رقم کی ہے اور اسکے لئے مزید قربانیاں دینا ہوں گی اور انشا اللہ وہ دن بھی آئے گا جب اس کا ملک سے مکمل خاتمہ اور صفایا ہو جائے گا اور پاکستان اقوام عالم میں پر امن او رخوشحال ملک کے طور پر ابھرے گا ۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور چاروں صوبوں میں مکمل آہنگی ہے اور کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس میں لیت و لعل سے کام لیا جائے گا یا کوئی سمجھوتہ یا اسے نظر انداز کیا جائے گا ۔ اب اس میں کوئی غفلت برداشت کی جائے گی اور نہ ہمارے پاس کوئی موقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لئے دن رات کام ہو رہا ہے ،معدنیات ڈھونڈنے کے لئے وسائل درکار ہیں اور انہیں پیدا کرنے کیلئے مشکلات اور چیلنجز درپیش ہیں اگر اس ملک میں دہشتگردی اسی طرح جاری و ساری رہی تو ترقی و خوشحالی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا پھر ہمیں غربت و بیروزگاری ‘ کرپشن کے خاتمے اور وسائل پیدا کرنے کیلئے مہمات کو آگے بڑھانے کو بھول جانا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مکمل یکسو ہے اور اسی حوالے سے عسکری قیادت بھی یکسو ہے ۔چاروں صوبے مل کر اور 18کروڑ عوام کے اتحاد اور سپورٹ سے ایک دن اللہ کے فضل سے اس سے چھٹکارا حاصل کریں گے کیونکہ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ پاکستان آج جن حالات سے دوچار ہے پاکستان کے قیام کے لئے قربانیاں دینے والے شہیدوں کی روحیں قبروں میں تڑپ رہی ہوں گی ۔

اب بھی دیر نہیں ہوئی اگر ہم ایمانداری سے عمل کریں گے تو اللہ کا فضل و کرم شامل ہوگا تو ہم اس عفریت سے نجات حاصل کر لیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے دہشتگردی ،انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے دورس اقدامات کئے ہیں اور اسکے لئے قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے ،اصلاحات لا ئی جارہی ہیں اور اور ایگزیکٹو عملدرآمد کرایا جارہا ہے ۔ قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے نہ صرف جرمانے رکھے گئے ہیں بلکہ قید کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں ۔

شیڈول فور میں شامل تمام افراد کو گرفتار کیا ہے ۔ عدالت عالیہ سے بھی باضابطہ درخواست کی ،انسداد دہشتگردی عدالتوں کو فعال کیا گیا ہے اور سنگین مقدمات کا نوٹس لے رہی ہیں ۔ پراسیکیوشن اپنا کام کر رہا ہے جبکہ فوجی عدالتوں کے قیام کے علاوہ اپیکس کمیٹی کے تواتر سے اجلاس ہو رہے ہیں جس میں ہر پہلو کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مدارس ‘ یونیورسٹیوں ‘ کالجز اورسکولوں میں صبر وتحمل ‘برداشت اورایک دوسرے کی بات کو سننے کا حوصلہ پیدا کرنے کے مضامین کو نصاب کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پر کام شروع ہو چکا ہے ۔

نظموں کو اس کا حصہ بنائیں گے جس سے قوم کو محبت‘ ایثار اور قربانی کاپیغام ملے اور اسی باہمی رواداری سے اتفاق پیدا ہو گا ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ پہلی انسداد دہشتگردی فورس کی پہلی کھیپ میدان عمل میں آ چکی ہے جبکہ دوسری کھیپ اپریل جبکہ تیسری جولائی ‘اگست میں میدان عمل میں آجائے گی اور مجموعی طور پر 1500 جوانوں اور خواتین آپریشن‘ انوسٹی گیشن اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں کام کریں گے۔

اس فورس کے لئے ہیلی کاپٹرز خریدے جارہے ہیں جبکہ انہیں بلٹ پروف جیکٹس ‘ جدید اسلحہ اور آلات سے بھی لیس کر رہے ہیں او ریہ صحیح معنوں میں اعلیٰ پائے کی فورس بن کر ابھرے گی باقی صوبے میں اس میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح کوئیک رسپانس فورس کو بھی افواج پاکستان کے انسٹرکٹر ز تربیت دے رہے ہیں اور اس میں دوست ممالک نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہے ۔جنوبی ایشیاء کی پہلی جدید فرانزک لیب لاہور میں کام کر رہی ہے جس کا دائرہ کار پنجاب کے نو ڈویژن تک بڑھایا جارہا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ سیف سٹی منصوبے کے پہلے مرحلے میں اس کا آغاز لاہور سے آغازکیا جائے گا جبکہ پنجاب کے پانچ بڑے شہروں میں اسکی بنیا درکھی جائے گی ۔ اس منصوبے کو اس سال کے آخر تک مکمل کر لیں گے ،پاکستان کا پہلا سیف سٹی کا منصوبہ قیام عمل میں آ چکا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں کیمرے لگائے جائیں گے‘ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی انویشن ہوں گے جس میں گلی محلے کی لڑائی ‘ اجتماع ‘ چوری چکاری کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے جائزہ لیا جا سکے گا اور بروقت موقع پر پہنچا جا سکے گا ۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے لئے اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں لیکن اسکے لئے اخراجات پنجاب حکومت خود کرے گی ۔ پونے دو سال ہو چکے ہیں وفاق نے ہمیں ایک دھیلا بھی نہیں دیا ، وفاق نے ہمیں مالی طور پر کوئی سپورٹ نہیں کیا لیکن اسکی گائیڈ لائنز دیتی ہے لیکن اسکے سو فیصد اخراجات پنجاب کے اپنے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اچھے اور برے کے حوالے سے کنفیوژن ‘جھول

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

26-02-2015 :تاریخ اشاعت