معین خان نے کسینو جانے پر معافی مانگ لی، چیئرمین پی سی بی کا معین خان کو پاکستان ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ فروری

اسلام آباد

تلاش کیجئے

معین خان نے کسینو جانے پر معافی مانگ لی، چیئرمین پی سی بی کا معین خان کو پاکستان واپس بلانے کا فیصلہ، معین خان کے معاملے پرنوید اکرم چیمہ کی سربراہی میں سلیکشن کمیٹی تشکیل ، وقار یونس اور مصباح الحق ممبر ہونگے ، معین خان کسینو بیوی کے ساتھ کھانا کھانے گئے تھے اور کوئی مقصد نہیں ، چیئرمین شہریار خان

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 25فروری۔2015ء) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے چیف سلیکٹر معین خان کو وطن واپس بلا لیا ہے اور سلیکشن کمیٹی کا چیئرمین نوید اکرم چیمہ کو بنا دیا جبکہ اس کمیٹی کے ممبر وقار یونس اور مصباح الحق ہونگے ۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سیلیکٹر معین خان نیوزی لینڈ میں ایک جوئے خانے میں جانے کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کی ِتحقیقات کی زد میں ہیں اور پاکستان واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ مسے قبل معین خان کے جوا خانہ جانے کے حوالے سے رپورٹس سامنے آنے پر پی سی بی نے حتمی تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔معین خان کو پاکستان واپس بلانے کا فیصلہ پی سی بی کے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا اور 24 سے 48 گھنٹوں میں ان کی پاکستان واپسی متوقع ہے۔ چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معین خان کو آسٹریلیا سے واپس بلا لیا ہے اور ایک سلیکشن کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس کا چیئرمین نوید اکرم چیمہ کو بنایا گیا ہے جبکہ اس کے ممبر وقار یونس اور مصباح الحق ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ آج منگل کو پاکستان کرکٹ ٹیم بورڈ کے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معین خان بتایا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کسینو میں کھانا کھانے گئے تھے اور ان کا وہاں پر جانے کا اور کوئی مقصد نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ۔قومی ٹیم کی خراب کارکردگی پر رنجیدہ شائقین نے چیف سلیکٹر کے ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ سے قبل جوا خانے میں دیکھے جانے کی رپورٹس پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہیکہ ہندوستان سے شکست کے بعد پاکستانی ٹیم کو ویسٹ انڈین ٹیم کے ہاتھوں بھی 150 رنز سے شکست ہوئی تھی۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار ایم خان نے چیف سلیکٹر معین خان کو فوری طور پرپاکستان واپس بلا لیا ہے تاکہ وہ کسینومیں جانے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

25-02-2015 :تاریخ اشاعت