سینیٹ قائمہ اطلاعات و نشریات کمیٹی کا معلومات تک رسائی بل اور پیمراضابطہ اخلاق ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سینیٹ قائمہ اطلاعات و نشریات کمیٹی کا معلومات تک رسائی بل اور پیمراضابطہ اخلاق کے حکومت سے منظو ر نہ ہونے پر سخت تشویش و برہمی کا اظہار،فوری منظوری کی سفارش،اس سے حکومت کی عدم دلچسپی کا تاثر سامنے آتا ہے،ارکان کمیٹی، پی ٹی وی میں کیمرے چوری ہونے کے واقعے کی آزادانہ انکوائری کرانے کی ہدایت، پی ٹی وی کے افسران و اہلکاروں کے خلاف اہم کیسوں کی نگرانی کا بھی فیصلہ، پی ٹی وی میں تقرریاں و ترقیاں میرٹ پر کی جاتیں تو لوگ عدالتوں میں نہ جاتے ،کمیٹی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 25فروری۔2015ء)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ نے معلومات تک رسائی کے بل اور پیمراضابطہ اخلاق کے حکومت کی طرف سے منظو ر نہ ہونے پر سخت تشویش و برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ان کی منظوری کیلئے سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے حکومت کی عدم دلچسپی کا تاثر سامنے آتا ہے جبکہ پی ٹی وی میں کیمرے چوری ہونے کے واقعے کی آزادانہ انکوائری کرانے کی بھی ہدایت کر دی اور پی ٹی وی کے افسران و اہلکاروں کے خلاف اہم کیسوں کی نگرانی کا بھی فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پی ٹی وی میں تقرریاں و پروموشن میرٹ پر کی جاتیں تو لوگ عدالتوں میں نہ جاتے ۔

کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔جس میں سینیٹرز سعید غنی ، ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو ، فرحت اللہ بابر، مسز فرح عاقل ، مسز شرالہ ملک ، ملک نجم الحسن ، محمد داؤد خان اچکزئی ، سید ظفرعلی شاہ اور مسز الماس پروین کے علاوہ سیکرٹری اطلاعات و نشریات محمد اعظم ، ڈائریکٹر جنرل آئی پی ، چیئرمین پیمرا ، منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی وی ، ڈائریکٹر جنرل پی بی سی کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی وی محمد مالک نے قائمہ کمیٹی کو پی ٹی وی کے کیسز اور اُن پر اُٹھائے جانے والے اخراجات کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر پی ٹی وی میں تقرریاں و پروموشن میرٹ پر کی جاتیں تو لوگ عدالتوں میں نہ جاتے جتنا پیسہ ان کیسز میں خرچ کیا جارہاہے اُس سے بہتر تھا کہ ملازمین کی فلاح وبہبو د پر خرچ کیا جاتا ۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اہمیت کے حامل چند کیسز کو دونوں فریقین کے ساتھ مل کر دیکھا جائے گا ۔

منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی وی نے کہا کہ سپورٹس چینل کے کاپی رائٹس ، کارکردگی کو بہتر کرنے کیلئے جدید سہولیات ،بہتر پروگرامنگ و دیگر معاملات کی ادائیگی کیلئے ہمیں دو ارب روپے کی ضرورت ہے جس کیلئے ہم قرضہ لے رہے ہیں بی او ڈی نے قرضہ منظور کر کے وزارت خزانہ کو منظوری کیلئے بھیجا ہوا ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی ٹی وی کو قرضہ حاصل کرنے کیلئے کراچی اسٹیشن کی بڑی عمارت کو گروی رکھا گیا ہے اور ڈیفالٹ ہوا تو عمارت کی نیلامی کا اشتہار سامنے آ جائے گا ۔

ایم ڈی پی ٹی وی نے کہا کہ یہ ادارہ خسارے میں جا رہاہے پہلے بھی اصل حقائق سے آگاہ نہیں کیا گیا جس پر رکن کمیٹی سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ تحریری طور پر ان سے یہ بیان طلب کیا جائے اور سابقہ انتظامیہ سے اس بارے پوچھا جائے ۔ قائمہ کمیٹی نے پی ٹی وی میں کیمرے چوری ہونے کے واقعے کی آزادانہ انکوائری کرانے کی بھی ہدایت کر دی ۔پی بی سی میں پوسٹنگ ٹرانسفر کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل عمران گردیزی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ نیوز اور کرنٹ افیئرز کے چند لوگوں کا تبادلہ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حالات حاضرہ کے چینل کو نیوز کے لوگ بہتر چلا سکتے تھے اس لئے حالات حاضرہ کے لوگوں کا متعلقہ شعبوں میں تبادلہ کیا گیا اور یہ بورڈ کے فیصلے کے بعد ہوا تھا جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جہاں پوسٹ کریں اُن کی اہلیت کے مطابق

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

25-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان