یمنی صدر منصور ہادی نے استعفیٰ واپس لے لیا،جنوبی شہر عدن میں حکومت سنبھالنے کے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ فروری

تلاش کیجئے

یمنی صدر منصور ہادی نے استعفیٰ واپس لے لیا،جنوبی شہر عدن میں حکومت سنبھالنے کے بعد کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا

عدن(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 25فروری۔2015ء) یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے دارالحکومت صنعا سے حوثی شیعہ باغیوں کی جبری نظربندی سے بچ کر نکل جانے کے تین روز بعد اپنا استعفیٰ واپس لینے کا اعلان کردیا ہے۔یمنی صدر نے 22 جنوری کو صنعا میں قابض حوثی شیعہ باغیوں کے صدارتی محل پر قبضے اور اپنی قیام گاہ کے محاصرے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا لیکن تب پارلیمان نے ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا۔وہ ہفتے کے روز اچانک حوثی باغیوں سے بچ کر صنعا سے جنوبی شہر عدن پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

انھوں نے عدن میں دوبارہ صدارتی ذمے داریاں سنبھال لی ہیں اور کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے کیے جانے والے تمام اقدامات غیر قانونی ہیں اور انھوں نے ان اقدامات کو کالعدم قرار دیا ہے۔ان کے ایک مشیر نے بتایا ہے کہ صدر ہادی نے پارلیمان کو ایک خط بھیجا ہے جس میں اس سے کہا ہے کہ وہ اپنا استعفیٰ واپس لے رہے ہیں۔اس خط میں منصور ہادی نے ارکان پارلیمان سے کہا ہے کہ وہ بحران کے حل اور تمام صوبوں میں امن وامان کی بحالی اور معاشی صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے ان کے ساتھ تعاون کریں۔

صدر کے مشیر کے مطابق انھوں نے کابینہ کے تمام وزراء کو فوری طور پر عدن پہنچنے کی ہدایت کی ہے اور ان کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔یمنی صدر کے ساتھ وزیراعظم خالد بحاح بھی 22 جنوری کو حوثی شیعہ باغیوں کی صدارتی محل پر چڑھائی اور دوسری سرکاری عمارتوں پر قبضے کے بعد اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے۔حوثی باغیوں نے پارلیمان کو تحلیل کرنے اور امور مملکت

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

25-02-2015 :تاریخ اشاعت