سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے قیام اور اکیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
تاریخ اشاعت: 2015-02-25
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:05 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:06 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:09 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:16 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:11 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:13 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے قیام اور اکیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ، لارجر بینچ کے قیام کیلئے معاملہ چیف جسٹس پاکستان کو ارسال کردیاگیا،سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی، اسلام آباد کی جانب سے جواب داخل نہ کرانے پرعدالت کا اظہار برہمی ، جواب تین روز میں داخل کرانے کا ،عدالت نے حامد خان کی جانب سے کیس جلد سماعت کے لیے لگانے کی استدعا مسترد کردیا، بینچ کا قیام چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیار ہے ہم انہیں جلد بینچ قائم کرکے مقدمہ کی سماعت کے لیے لگانے کا نہیں کہہ سکتے ،سپریم کورٹ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 25فروری۔2015ء) سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام اور اکیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے معاملہ چیف جسٹس پاکستان کو ارسال کرتے ہوئے ان سے لارجر بینچ کے قیام کی استدعا کی ہے ۔ اسلام آباد کی جانب سے جواب داخل نہ کرانے پرعدالت کا اظہار برہمی ، جواب تین روز میں داخل کرانے کا حکم دیا ہے ۔ عدالت نے حامد خان کی جانب سے کیس جلد سماعت کے لیے لگانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بینچ کا قیام چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیار ہے ہم انہیں جلد بینچ قائم کرکے مقدمہ کی سماعت کے لیے لگانے کا نہیں کہہ سکتے ۔

تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت کے پاس اٹھارہویں ترمیم کا معاملہ پہلے ہی زیر سماعت ہے اٹھارہویں ترمیم اور اکیسویں ترمیم کے مقدمہ میں ایک ہی طرح کے سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کا آئینی و قانونی جواب درکار ہے ۔ دونوں طرح کے معاملات کے حوالے سے تفصیل سے سماعت کے بعد ہی فیصلہ جاری کیا جائے گا تاہم یہ تین رکنی بینچ کسی بھی قسم کی ہدایات جاری نہیں کررہا معاملہ چیف جسٹس پاکستان کو ارسال کررہے ہیں کہ وہ اس پر لارجر بینچ تشکیل دیں جبکہ وفاقی حکومت سمیت چاروں صوبوں نے فوجی عدالتوں اور اکیسویں ترمیم کے حوالے سے جوابات سپریم کورٹ میں داخل کرادیئے ہیں ۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے منگل کے روز فوجی عدالتوں اور اکیسویں ترمیم کیخلاف لاہور ہائی کورٹ بار سمیت دیگر درخواستوں کی سماعت کی اس دوران حامد خان ، عرفان قادر ، اٹارنی جنرل پاکستان اور دیگر درخواست گزاروں کے وکلاء عدالت

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

25-02-2015 :تاریخ اشاعت