2020 ء تک ملک میں لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوگی ،نیپرا کا انکشاف،آئندہ سال کے الیکٹر کو1132 ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-24
تاریخ اشاعت: 2015-02-24
تاریخ اشاعت: 2015-02-24
تاریخ اشاعت: 2015-02-24
تاریخ اشاعت: 2015-02-24
تاریخ اشاعت: 2015-02-24
تاریخ اشاعت: 2015-02-24
تاریخ اشاعت: 2015-02-24
تاریخ اشاعت: 2015-02-24
تاریخ اشاعت: 2015-02-24
تاریخ اشاعت: 2015-02-24
- مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

2020 ء تک ملک میں لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوگی ،نیپرا کا انکشاف،آئندہ سال کے الیکٹر کو1132 میگاواٹ شارٹ فال کا سامنا ہوگا،گڈانی پاور منصوبہ پر ڈیڑھ سال کام کرنے کے بعد مکمل بند کردیا گیا،رپورٹ ،لوڈشیڈنگ کے حوالے سے نیپرا کی رپورٹ من گھڑت اور گمراہ کن ہے، ترجمان وزیر اعظم ہاؤس،وزارت پانی و بجلی نے بھی نیپرا رپورٹ کو مسترد کر دیا ،وزیر اعظم نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا جو ہدف دیا ہے پورا کریں گے، وزارت پانی و بجلی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 24فروری۔2015ء)نیپرا نے انکشاف کیا ہے کہ 2020 ء تک ملک میں لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہو سکتی اور ملک میں بجلی کی مانگ میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سٹیٹ آف انڈسٹری 2014 ء کی رپورٹ میں نیپر ا حکام نے کہا ہے کہ آئندہ سال کے الیکٹرک کو 1132 میگاواٹ شارٹ فال کا سامنا ہوگا اور 2020 ء میں ملک میں لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہو سکتی بلکہ بجلی کی مانگ میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا ۔

رپورٹ کے مطابق 2020 ء میں بھی 1200 میگاواٹ کا شارٹ فال برقرار رہے گا ۔رپورٹ کے مطابق 2013 ء میں جن منصوبوں کا اعلان کیا گیا تھا وہ منصوبے تیزی کے ساتھ مکمل نہیں ہو رہے ،ان منصوبوں کو تیزی کے ساتھ مکمل کیا جائے ،نئے منصوبوں کے ساتھ ساتھ ملک میں بجلی کی مانگ میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا ۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گڈانی پاور منصوبہ جس پر ڈیڑھ سال تک کام کیا گیا اس منصوبے کو مکمل طو رپر بند کر دیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق سال 14-2013میں بجلی کے صارفین کو کوئی بڑا ریلیف نہیں ملا،البتہ لوڈ شیڈنگ میں معمولی کمی ہوئی۔

اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2014 کیمطابق صارفین سال2013-14 میں اووربلنگ کی شکایات کرتے رہے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات اور وصولیوں میں کمی کے باعث 480 ارب روپے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

24-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان