محکمہ تعلیم موجودہ دور میں جعلی بھرتیوں کے معاملے کی چھان بین کرکے رپورٹ جمع کروائے،وزیر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-24
تاریخ اشاعت: 2015-02-24
تاریخ اشاعت: 2015-02-24
تاریخ اشاعت: 2015-02-24
تاریخ اشاعت: 2015-02-24
تاریخ اشاعت: 2015-02-24
پچھلی خبریں -

کراچی

تلاش کیجئے

محکمہ تعلیم موجودہ دور میں جعلی بھرتیوں کے معاملے کی چھان بین کرکے رپورٹ جمع کروائے،وزیر اعلیٰ سندھ کا حکم

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 24فروری۔2015ء) وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے محکمہ تعلیم کو حکم دیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے موجودہ دور حکومت کے دوران ضلعی سطح پر کی گئی جعلی بھرتیوں کے معاملے کی اکاوٴنٹنٹ جنرل سندھ کے پے رولز کے زریعے چھان بین کرکے رپورٹ جمع کروائیں۔ یہ احکامات انہوں نے وزیراعلیٰ ہاوٴس میں محکمہ تعلیم کے ترقیاتی و غیر ترقیاتی منصوبوں اور بیرونی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جاری کئے۔

اجلاس میں سینئر وزیر تعلیم نثار احمد کھوڑو ، وزیرخزانہ سید مراد علی شاہ ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (منصوبہ بندی و ترقیات) وسیم احمد ، سیکریٹری تعلیم فضل پیچوہو ، سیکریٹری یونیورسٹی اینڈ بورڈز ممتاز علی شاہ ، سیکریٹری خزانہ سہیل راجپوت اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم کے کچھ افسران ضلعی سطح پر کی گئی جعلی بھرتیوں میں ملوث ہیں جس پر وزیر تعلیم نثار احمد کھوڑو اور سیکریٹری تعلیم فضل پیچوہو نے وزیراعلیٰ سندھ کی بات سے اتفاق کیا۔

اس موقع پر سیکریٹری تعلیم نے بتایا کہ کچھ اضلاع کے ڈی ای اوز محکمہ تعلیم کے کچھ افسران سے ملے ہوئے ہیں اور انہوں نے جعلی آئی ڈیز بنا کر جعلی بھرتیاں کی ہیں جن میں سے کچھ کیسز ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ منظر عام پر آچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے جون 2013سے جیسے ہی وزیراعلیٰ سندھ کے عہدے کا چارچ سنبھالا تو نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کی تھی جو کہ ابھی 6ماہ قبل ہی ہٹائی ہے لیکن تب سے اب تک کوئی بھرتی نہیں کی گئی۔

انہوں نے وزیرتعلیم اور سیکریٹری تعلیم کو حکم دیا کہ وہ اے جی سندھ سے 2013کے پے رولز حاصل کر کے اسکا 2014اور 2015سے موازنہ کریں جو بھی سرپلس بھرتیاں سامنے آئیں اور ان بھرتیوں میں جو بھی ملوث پائے جائیں ان کے خلاف سخت کاروائی کریں اور یہ کاروائی نوکری سے برخاستگی سے کم نہ ہو۔وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری خزانہ کو بھی ہدا یت کی کہ وہ اے جی سندھ سے ملاقات کریں اور پے رولز کے کاغذات حاصل کرنے میں سیکریٹری تعلیم سے تعاون کریں جو تین دن کے اندر انکوائری پورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو جمع کروائیں۔

وزیر تعلیم نثار احمد کھوڑو نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے اپنے محکمے کی ADP-15-2014کے مختلف ترقیاتی منصوبوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

24-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان