قومی ٹیم شکست کا داغ دھونے اور میگا ایونٹ میں پہلی فتح کیلئے برسبین پہنچ گئی، ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر فروری

مزید کھیلوں کی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-23
تاریخ اشاعت: 2015-02-23
تاریخ اشاعت: 2015-02-23
تاریخ اشاعت: 2015-02-23
تاریخ اشاعت: 2015-02-23
تاریخ اشاعت: 2015-02-23
-

تلاش کیجئے

قومی ٹیم شکست کا داغ دھونے اور میگا ایونٹ میں پہلی فتح کیلئے برسبین پہنچ گئی، اتوار کو مکمل آرام کے بعد ٹیم انتظامیہ نے کھلاڑیوں کو چھ دن لگاتار پریکٹس کرانے کا فیصلہ کیا ہے ،مصباح الحق الیون کو گروپ بی میں اپنے چاروں میچز جیتنا لازمی ہے،گروپ میں پاکستان کا نیٹ رن ریٹ بھی سب سے کم ہے، دو میچز ہارنے کی وجہ سے قومی ٹیم کوئی پوائنٹ حاصل نہیں کرسکی،چھ روزہ پریکٹس کے دوران بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ کی خامیاں دور کرنے کی کوشش کی جائیگی اور ٹریننگ کے ذریعے پلیئرز کی فٹنس کو بھی بہتر بنایا جائے گا، ٹیم مینجمنٹ

برسبین (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 23فروری۔2015ء)قومی کرکٹ ٹیم کرائسٹ چرچ سے برسبین پہنچ گئی۔ جہاں اتوار کو مکمل آرام کے بعد ٹیم انتظامیہ نے کھلاڑیوں کو چھ دن لگاتار پریکٹس کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ویسٹ انڈیز سے ورلڈکپ میچ میں شکست کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کرائسٹ چرچ سے برسبین پہنچ گئی۔ جہاں اگلے اتوار کو قومی ٹیم ورلڈکپ میں اپنا تیسرا میچ زمبابوے سے کھیلے گی۔ دو میچز میں شکست کے بعد کوارٹر فائنل میں رسائی کیلئے مصباح الحق الیون کو گروپ بی میں اپنے چاروں میچز جیتنا لازمی ہے۔

گروپ میں پاکستان کا نیٹ رن ریٹ بھی سب سے کم ہے۔ دو میچز ہارنے کی وجہ سے قومی ٹیم کوئی پوائنٹ حاصل نہیں کرسکی۔ بلکہ اس کا نیٹ رن ریٹ منفی دو اعشاریہ دوچھ، یو اے ای سے بھی کم ہے۔ یواے ای نے ایک اور پاکستان نے دومیچز کھیلے ہیں۔ گروپ کی کسی ٹیم کے ساتھ پوائنٹ برابر ہونے پر قومی ٹیم کو بہتر رن ریٹ کی بھی ضرورت ہوگی۔قومی ٹیم انتظامیہ نے اتوار کو آرام کے بعد برسبین میں پیر سے ہفتے تک لگاتار چھ روز کھلاڑیوں کو بھرپور پریکٹس کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ویسٹ انڈین نے پاکستان کو کھیل کے ہر شعبے میں آوٴٹ کلاس کیا۔ جہاں کیریبیئن ٹیم نے آخری پانچ اوورز میں اناسی رنز بناکر اپنا ٹوٹل تین سودس رنز کرلیا۔ پاکستانی فیلڈرز نے چھ کیچز ڈراپ کرکے یہ اسکور بنانے میں حریف ٹیم کی مدد کی۔بیٹنگ میں ایک رن پرچار وکٹیں گنوا کر منفی ریکارڈ بھی مصباح الیون کے نام ہوگیا۔ ٹیم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چھ روزہ پریکٹس کے دوران بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ کی خامیاں دور کرنے کی کوشش کی جائیگی اور ٹریننگ کے ذریعے پلیئرز کی فٹنس کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔

23-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان