افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت نے حکومت سے مذاکرات کی منظوری دیدی، مذاکرات میں پاکستان ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-23
تاریخ اشاعت: 2015-02-23
تاریخ اشاعت: 2015-02-23
تاریخ اشاعت: 2015-02-23
تاریخ اشاعت: 2015-02-23
تاریخ اشاعت: 2015-02-23
تاریخ اشاعت: 2015-02-23
تاریخ اشاعت: 2015-02-23
تاریخ اشاعت: 2015-02-23
تاریخ اشاعت: 2015-02-23
تاریخ اشاعت: 2015-02-23
پچھلی خبریں -

تلاش کیجئے

افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت نے حکومت سے مذاکرات کی منظوری دیدی، مذاکرات میں پاکستان کے ممکنہ کردار کے حوالے سے بھی اختلافات ہیں،طالبان ذرائع

کابل (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 23فروری۔2015ء)افغانستان میں طالبان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی منظوری دیدی ہے۔کچھ عرصہ قبل پاکستانی ’حکام‘ نے افغان طالبان سے رابطے کیے اور انھیں مشورہ دیا کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں جس پر افغان طالبان نے کہا تھا کہ وہ اپنی اعلی قیادت سے اجازت لے کر جواب دیں گے۔ طالبان ذرائع کا نے بی بی سی پشتو کو بتایا ہے کہ طالبان کی اعلی قیادت نے مذاکرات کی اجازت دے دی ہے۔

تاہم افغان طالبان نے باضابطہ طور پر مذاکرات کے عمل کی تصدیق نہیں کی ہے۔ لیکن طالبان کی پالیسی رہی ہے کہ وہ اس وقت تک تصدیق نہیں کرتے جب تک کوئی ٹھوس چیز سامنے نہ آئے۔دوسری جانب قطر سے طالبان کا ایک وفد قطر میں افغان طالبان کے نمائندے قاری دین محمد کی قیادت میں پاکستان آنے والا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قاری دین محمد کچھ دن قبل اسلام آباد آئے تھے اور مشاورت کے بعد واپس قطر چلے گئے۔قاری دین محمد کے علاوہ افغانستان میں طالبان کے اہم رہنما عباس ستانکزئی بھی وفد میں شامل ہوں گے۔

واضح رہے کہ افغان طالبان کے جس وفد نے گذشتہ سال چین کا دورہ کیا تھا اس کی قیادت بھی قاری دین محمد نے کی تھی۔قطر سے افغان طالبان کے وفد آنے کے حوالے سے جب ایک سابق طالبان رہنما سے پوچھا گیا کہ اس وفد کے آنے کا مقصد کیا ہے تو ان کا کہنا تھا ’اس وفد کے آنے کا مقصد پاکستانی آفیشلز کے ساتھ صلاح مشورے کرنا ہے۔ اور امکان ہے کہ قطر میں طالبان کا دفتر دوبارہ کھل جائے۔‘یاد رہے کہ جون 2013 میں قطر میں طالبان نے اپنا دفتر کھولا تھا جس کو ایک ماہ بعد ہی عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔

طالبان نے قطر کے دارالحکومت

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

23-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان