ملیریا کے خلاف ادویات بے اثر ہونا شروع، لاکھوں انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:01:42 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:17 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:21 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:23 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:27 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:29 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

ملیریا کے خلاف ادویات بے اثر ہونا شروع، لاکھوں انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، طبی ماہرین

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 21فروری۔2015ء ) طبی ماہرین نے کہا ہے کہ ملیریا کے خلاف ادویات بے اثر ہونا شروع ہو گئی ہیں اور اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو لاکھوں انسانوں کی جانیں خطرے میں پڑھ سکتی ہیں ۔ میڈیارپورٹ کے مطابق طبّی محققین نے ملیریا کے پھیلاوٴ سے خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بیماری کے خلاف اب تک استعمال کی جانے والی تمام ادویات اب بے اثر ہوتی جا رہی ہیں اور جنوبی ایشیا کے ممالک میں ملیریا کی تاریخ دْھرائی جانے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ملیریا کے پیراسائٹس یا طفیلیے اس مرض کے خلاف دوا ’ artemisinin‘ مزاحم ہو چْکے ہیں اور میانمار میں بھارت کی سرحد سے نزدیک علاقوں میں تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اس طرح ملیریا کے، جو ماضی میں ان ممالک میں بہت زیادہ پایا جاتا تھا، مستقبل میں ایک بار پھر پھیلاوٴ کے آثار بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔تاریخ خود کو دْھرا رہی ہے ،طبّی محققین نے کہا ہے کہ دوا مزاحم ملیریا طفیلیے بھارت پہنچ گئے تو صورتحال ایک بڑے عالمی بحران سے دوچار ہو گی کیونکہ اس سے مہلک مچھروں کے سبب پیدا ہونے والی بیماری ’ ملیریا‘ کے خاتمے اور اس پر کنٹرول کے امکانات کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔

اس حوالے سے ایک رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملیریا کے خلاف دوا سے مزاحمت کا پھیلاوٴ اگر ایشیا سے افریقہ یا انفرادی طور پر افریقہ میں بھی پیدا ہو گیا تو لاکھوں انسانوں کی جانیں خطرے میں ہوں گی۔ ایسا ماضی میں بھی ہو چْکا ہے جبکہ پہلے ملیریا کے خلاف استعمال کی جانے والی ادویات اثر کرتی تھیں جبکہ اب یہ دوائیں بے اثر ہو چْکی ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایماء پر کیے جانے والے اس مطالعاتق جائزے میں شامل ٹروپیکل میڈیسن ریسرج یونٹ سے منسلک ایک محقق چارلس ووٴڈرو کا کہنا ہے کہ میانمار کا شمار ملیریا کی دوا ’artemisinin‘ کی مزاحمت کے خلاف جنگ کرنے والے صف اوّل کے ملکوں میں ہوتا ہے کیونکہ یہ تمام دنیا کے لیے ایک گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔

21-02-2015 :تاریخ اشاعت