انڈیا: نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر راجندر کمار پچوری پر فحش میسیجنگ کا مقدمہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
تاریخ اشاعت: 2015-02-21
-

تلاش کیجئے

انڈیا: نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر راجندر کمار پچوری پر فحش میسیجنگ کا مقدمہ ، پچوری نے انہیں ای میل اور واٹس ایپ پر قابل اعتراض پیغامات بھیجے تھے۔29 سالہ خاتون کا الزام لگایا

نئی دہلی( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 21فروری۔2015ء ) نوبل امن انعام یافتہ مشہور ماحولیاتی سائنسدان اور ہندوستان کے توانائی اور وسائل کے ادارے ٹیری کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راجندر کمار پچوری کے خلاف اسی ادارے کی خاتون ریسرچ اینالسٹ نے جنسی طور پر ہراسان کرنے کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ لودھی کالونی پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے خاتون کا بیان لینے کے بعد ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ٹیری میں بطور ریسرچ اینالسٹ کام کرنے والی 29 سالہ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ پچوری نے انہیں ای میل اور واٹس ایپ پر قابل اعتراض پیغامات بھیجے تھے۔

پولیس کے مطابق، مذکورہ خاتون نے پچوری کو کئی مرتبہ اس حرکت پر تنبیہ کی، لیکن پھر بھی وہ باز نہیں آئے۔ چنانچہ انہوں نے 13 فروری کو پولیس میں شکایت کی، اور 18 فروری کو پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل مذکورہ خاتون نے 9 فروری کو اس معاملے کی شکایت ٹیری میں بھی کی تھی، لیکن وہاں کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔متاثرہ خاتون نے 33 صفحات پر مشتمل اپنے بیان میں تحریر کیا ہے کہ ستمبر 2013 میں ٹیری میں ان کی تقرری ہوئی تھی۔

اس کے کچھ دنوں کے بعد ہی پچوری کی جانب سے اس طرز کے میسیجز ملنے لگے تھے، لیکن ملازمت ہاتھ سے چلے جانے اور بدنامی کے ڈر سے وہ خاموش رہیں۔یاد رہے کہ آر کے پچوری ماحولیاتی تبدیلی سمیت ماحولیات سے منسلک تمام اداروں اور فورم میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ماحولیاتی خطرات پر ہندوستان کے سرکاری اداروں کے ایک باہمی پینل کے صدر بھی ہیں۔ان الزامات کی تفصیلات جاننے کے لیے جب ہندوستانی اخبار اکنامک ٹائمز کے نمائندے نے ڈاکٹر آر کے پچوری سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا ”آپ کے سوال کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے ثبوت موجود ہیں کہ میری اجازت اور رضامندی کے بغیر میرے کمپیوٹر اور کمیونیکیشن ڈیوائسز کا غلط استعمال کیا گیا تھا۔

21-02-2015 :تاریخ اشاعت