نیلم ،جہلم پروجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا اضافی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-20
تاریخ اشاعت: 2015-02-20
تاریخ اشاعت: 2015-02-20
تاریخ اشاعت: 2015-02-20
تاریخ اشاعت: 2015-02-20
تاریخ اشاعت: 2015-02-20
تاریخ اشاعت: 2015-02-20
تاریخ اشاعت: 2015-02-20
تاریخ اشاعت: 2015-02-20
تاریخ اشاعت: 2015-02-20
تاریخ اشاعت: 2015-02-20
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

نیلم ،جہلم پروجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے،قائمہ کمیٹی سینیٹ برائے بجلی پانی کا نیلم جہلم منصوبے میں حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے تاخیر اور لاگت میں کئی گنا اضافے کے علاوہ پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سنگل بڈ پر ٹھیکہ دینے پر شدید تحفظات کا اظہار ،گولن گول منصوبے کی لاٹ ایک دو تین کا ٹھیکہ کم ترین بولی دینے والے ٹھیکہ دار کو دینے کی بجائے دباوٴ کے ذریعے بھگادیا گیا جو سرا سر ظلم اور زیادتی ہے، سینیٹر نثار محمد،کمیٹی کے اجلاس میں گولن گول منصوبے کے ایم ڈی کی وضاحت سننے سے انکار، چیئر مین کمیٹی سینیٹر زاہدخان کا سخت برہمی کا اظہار ،پیپکو ، ہیپکو، میپکو، ہیسکو میں قواعد کے خلاف بھرتیوں اور ترقیوں کی تفصیلات کیلئے دو رکنی کمیٹی قائم ، واپڈا اور ڈیسکوز کے معاملات کیلئے ذیلی کمیٹی کا اجلاس 27مارچ اور قائمہ کمیٹی کا اجلاس 26مارچ کو دوبارہ طلب کر لیاگیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 20فروری۔2015ء) قائمہ کمیٹی سینیٹ برائے بجلی پانی کے اجلاس میں نیلم جہلم منصوبے میں حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے تاخیر اور لاگت میں کئی گنا اضافے کے علاوہ گولن گول منصوبے کی پانچ لاٹوں میں سے لاٹ نمبر ایک دو اور تین کی پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سنگل بڈ پر ٹھیکہ دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ نیلم ،جہلم پروجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔

کمیٹی کے اجلاس میں ذیلی کمیٹی کے کنوینیر سینیٹر نثار محمد نے کہا کہ گولن گول منصوبے کی لاٹ ایک دو تین کا ٹھیکہ کم ترین بولی دینے والے ٹھیکہ دار کو دینے کیبجائے دباوٴ کے ذریعے بھگادیا گیا جو سرا سر ظلم اور زیادتی ہے ۔کمیٹی کے اجلاس میں گولن گول منصوبے کے ایم ڈی کی وضاحت سننے سے انکار کر دیا گیا۔ چیئر مین کمیٹی سینیٹر زاہدخان نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے ذریعے سستی بجلی پید ا کرنے کے منصوبوں پر حکومت وزارت پانی و بجلی اور وزارت کے متعلقہ ادارے توجہ نہیں دے رہے حالانکہ بجلی سے زیادہ ملک اور قوم کو پانی کی اشد ضرورت ہے ۔

چترال جیسے پر امن ترین علاقے میں امن و امان کا بہانہ بنا کر ادارے سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ سرکاری ملازم ریاستی ملازم کا کردار ادا کریں نہ کہ کسی کے ذاتی ملازم کا اگر سستی بجلی پید ا کرنے کے منصوبو ں پر قومی جذبے سے توجہ دی جاتی تو لاگت میں کئی گنا اضافہ نہ ہوتا ۔ ایم ڈی نندی پور محمود احمد نے آگاہ کیا کہ چار سو پچیس میگاواٹ منصوبے کی چار ٹربائنوں میں سے تین کا کمیشن ہو گیا ہے 95ملین کلو واٹ فی گھنٹہ سسٹم کو فراہم کی جائیگی اور موجودہ پیداور 3سو میگا واٹ یونٹ ہے ۔

23بلین کا بنیادی منصوبہ اب 58.6بلین میں مکمل ہو گا اور فی یونٹ پیداواری لاگت 18روپے ہو گی ۔ جس پر کمیٹی کے اراکین محسن لغاری نثار محمدنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ 2008کا منصوبہ جلد مکمل ہونے کی امید نہیں ۔ایم ڈی نندی پور محمود احمد نے انکشاف کیا کہ اچانک سرکاری فون پر تین دنوں میں پالیسی بنانے کا حکم دیا گیا جس پر عمل کرنے کے پابند تھے ۔ چیئر مین کمیٹی اور ممبران نے کہا کہ ملازم کسی ذات کی بجائے ریاست کے ملازم کا کردار ادا کریں ۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ منصوبہ 30جون 2015تک مکمل کر لیا جائیگا۔ جس پر کمیٹی نے متفقہ فیصلہ کیا کہ اگر منصوبہ دی گئی تاریخ پر مکمل نہ کیا جائے تو معاملہ نیب کو بھجوایا جائے ۔سینیٹر نثار محمد نے منصوبے کی لاگت اور اس کے قابل عمل ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور پیپرا رولز کی خلاف ورزی پر منصوبے کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی تجویز دی ۔ کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کے حوالے سے ایم ڈی کول انرجی شاہ جہان نے آگاہ کیا کہ گڈانی میں جیٹی کی وجہ سے مسائل تھے حکومت کا بنیادی مقصد سستی بجلی پیدا کرنا ہے جسکے لئے برون ملک سے بھی درآمد کیا جائیگا۔

کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں صرف چین سرمایہ کاری کریگا۔ دوسرے ممالک میں ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے سرمایہ کاری پر پابندی لگا رکھی ہے ۔سینیٹر محسن لغاری نے پنجاب میں ساہی وال ، مظفر گڑھ ، رحیم یار خان کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے حوالے سے کہا کہ منصوبوں تک کوئلہ اور مشینری پہنچانے کیلئے انفراسٹکچر موجود نہیں حکومت کو ریلوے کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کیلئے زائد اخراجات

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

20-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان