ریلوے کے 329.39 ارب کے 45،منصوبوں پر کام جاری،مزید208.85ارب درکار ہوں گے، ریلوے قائمہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-19
تاریخ اشاعت: 2015-02-19
تاریخ اشاعت: 2015-02-19
تاریخ اشاعت: 2015-02-19
تاریخ اشاعت: 2015-02-19
تاریخ اشاعت: 2015-02-19
تاریخ اشاعت: 2015-02-19
تاریخ اشاعت: 2015-02-19
تاریخ اشاعت: 2015-02-19
تاریخ اشاعت: 2015-02-19
تاریخ اشاعت: 2015-02-19
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

ریلوے کے 329.39 ارب کے 45،منصوبوں پر کام جاری،مزید208.85ارب درکار ہوں گے، ریلوے قائمہ کمیٹی میں انکشاف، نجی شعبہ کے اشتراک سے 26 بند ٹرینیں بحال، 8 نئی گاڑیاں لائی گئی ہیں ،کمیٹی کو بریفنگ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 19فروری۔2015ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان ریلوے میں اس وقت 45 منصوبوں پر کام ہورہا ہے اور یہ منصوبے 329.39 ارب روپے کی لاگت کے ہیں جبکہ جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے 208.85ارب روپے کی مزید رقم درکار ہے،کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجی شعبہ کے اشتراک سے 26 بند ٹرین اور 8 نئی ٹرین کو بھی متعارف کروایا گیا ۔ بدھ کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں اراکین کمیٹی کے علاوہ ریلوے کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

پاکستان ریلوے کے ڈائریکٹر جنرل منصوبہ بندی وزارت ریلوے مظہر احمد نے پی ایس ڈی پی 2015-16 کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستان ریلوے میں جاری 45 منصوبوں پر کام ہورہا ہے جس کی لاگت 329.39 ارب روپے ہے جبکہ جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے 208.85 ارب روپے کی مزید رقم درکار ہے انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ گیارہ نئے منصوبے بھی شروع کئے جارہے ہیں اور وزارت ریلوے کی زیادہ توجہ موجودہ ریلوے ٹریکس اور سہولیات کو بہتر کرنے کی طرف ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ ریلوے نے نئے منصوبوں میں بیس ڈیزل انجن لوکو موٹو کی لمبائی پہلے مرحلے میں ہزار ملین روپے خرچ ہوں گے جبکہ گوادر میں اراضی اورریلوے لائنز کی خریداری کا منصوبہ 1332 ملین روپے کا ہے اور پی ایس ڈی پی 2015-16ء میں اس منصوبے کے لیے 882 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں کمیٹی کو بتایا گیا کہ شارٹ ٹرم منصوبے میں ٹریکس ، کوچز اور گاڑیوں کی تزئین و آرائش پر توجہ دے رہے ہیں جبکہ پی ایس ڈی پی 2015-16ء میں ریل پٹری کی مرمت اور لمبائی کے لیے 1759 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ 800 کوچز اور 2000 مال بردار گاڑیوں کی مرمت پر 1759 ملین روپے خرچ ہونگے ، ڈیزل سے چلنے والے سو لوکو موٹو کی مرمت پر چار ارب چھیانوے کروڑ روپے گزشتہ سال خرچ کئے گئے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجی شعبہ کے اشتراک سے 26 بند ٹرینیں بحال اور 8 نئی گاڑیوں کو بھی متعارف کروایا گیا۔ ریلوے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت پاکستان ریلوے 104ٹرین اور 108 لوکو موٹو سے کام چلا رہے ہیں۔

19-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان