کٹالونیا کی صوبائی اسمبلی نے ٹیکسی سیکٹر کو نئی موبائل ایپلیکیشن کمپنیوں اور ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید بین الاقوامی خبریں

تلاش کیجئے

کٹالونیا کی صوبائی اسمبلی نے ٹیکسی سیکٹر کو نئی موبائل ایپلیکیشن کمپنیوں اور جعلی ٹیکسیوں سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے سخت قانون کی منظوری دیدی

پیرس(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 19فروری۔2015ء)کٹالونیا کی صوبائی اسمبلی نے بارسلونا کے ٹیکسی سیکٹر کے مطالبہ پر بارسلونا کے ٹیکسی سیکٹر کو نئی موبائل ایپلیکیشن کمپنیوں اور جعلی ٹیکسیوں سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے ایک سخت قانون کی منظوری دے دی ہے۔ اور اس کو سرکاری حکمنامہ میں مشتہر کر دیا گیا ہے۔ جس کے بعد قانون فوری نافذالعمل ہے۔ قانون کیمطابق کوئی بھی شخص بغیر اجازت نامہ کے مسافروں کی نقل وحرکت کے دوران قانون کی گرفت میں آجاتا ہے تو، اس کو 6000 یورو جرمانہ کیا جائے گا۔

اور فورا اس کی گاڑی کو ضبط بھی کیا جائے گا۔ اور گاڑی اس وقت تک واپس نہیں کی جائے گی۔ جب تک وہ یہ جرمانہ اور گاڑی کے مقامی پولیس کی تحویل میں رکھے جانے کے دوران اٹھنے والے اخراجات ادا نہیں کر دیتا۔ اس سلسلہ میں کتلونیا کی کرائم پولیس نے محکمہ ٹرانسپورٹ کٹالونیا کے ساتھ مل کر بارسلونا ایر پورٹ پر ناکہ لگا کر گاڑیوں کی پڑتال کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پاک ٹیکسی ایسوسی ایشن کے صدر ذوالقرنین حیدر ، رانا احسن، افتخار احمد، لیاقت تارڑ، شہزاد گجر، شہزاد اسلم، طاہر فاروق وڑائچ، مبشر بشیر، سید طاہر شاہ اور وقار عظیم نے اس قانون کی منظوری کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

اور کہا ہے کہ اس قانون کے بعد صرف اوبر ہی نہیں بلکہ کسی بھی جعلی ٹیکسی چلانے والے کو قانون کی گرفت میں لایا جاسکے گا۔ یاد رہے کہ اس قانون کی تیاری میں مرکزی کردار پارلیمانی کمیشن برائے علاقائی امور کے صدر سالوادور میلعا نے ادا کیا ہے۔ جن کاتعلق ایمیگرنٹس دوست سیاسی پارٹی آئی سی وی۔ گرین پارٹی سے ہے۔ قانون کی تیاری کے دوران پاک ٹیکسی کے ممبر سعد مختار تارڑ اور پاک ٹیکسی کی اتحادی تنظیم ٹیکسی کمپان نے پارلیمنٹ میں سالوادور میلعا سے میٹنگز میں اس قانون کی تیاری میں مدد فراہم کی تھی۔ اور اپنے موقف سے آگاہ کیا تھا۔ اور پارلیمانی کمیشن میں حتمی منظوری کے وقت ٹیکسی کمپان کے صدر پیدرو گارسیا اور پاک ٹیکسی کے ممبر سعد مختار تارڑ بھی کتلونیا کی صوبائی اسمبلی میں موجود تھے۔

19-02-2015 :تاریخ اشاعت