وفاقی حکومت اقتصادی کوریڈور کے روٹ بارے ہر قسم کا ابہام دور کرکے واضح پالیسی اختیار ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

وفاقی حکومت اقتصادی کوریڈور کے روٹ بارے ہر قسم کا ابہام دور کرکے واضح پالیسی اختیار کرے،اے پی سی کا مطالبہ ،روٹ میں ممکنہ تبدیلی کی مخالفت ، منصوبے کی تعمیر فوری اور جنگی بنیادوں پر شروع کی جائے اور باقی سڑکوں اور لنک روڈ کی تعمیر بعد میں کی جائے، وفاق پرانے روٹس بارے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹا تو اس سے فاٹا ارو خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں گہرا احساس محرومی اور احساس منافرت پیدا ہوگا،اے این پی کے زیر اہتمام کل جماعتی کانفرنس کا مشتر کہ اعلامیہ ، حکومت نے بیٹھے بیٹھے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے میں متنازعہ انداز میں ایک صوبے کو اہمیت دے کر متنازعہ روٹ بنا دیا ہے،حکومت خود وفاق کو کمزور کررہی ہے، پیپلز پارٹی، پوری قوم پاک چائنہ اقتصادی راہداری کو بڑے غور سے دیکھ رہی ہے حکومت نے تعصبات کامظاہرہ کیا تو صوبوں کے مابین مزید خلیج بڑھ جائے گی،تحریک انصاف، منصوبے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے،چائنہ کے صدر کے دورے سے پہلے اس مسئلے کو متنازعہ نہ بنایا جائے، جماعت اسلامی ،تمام جماعتیں حکومت کے ساتھ مل بیٹھیں ہم تمام پارٹیوں کی پشت پر ہونگے،جے یو آئی (ف )

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 18فروری۔2015ء)عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام کل جماعتی کانفرنس نے پاک چین راہداری منصوبے کے روٹ میں ممکنہ تبدیلی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اقتصادی کوریڈور کے روٹ کے بارے میں ہر قسم کے ابہام کو دور کرکے واضح پالیسی اختیار کرے، پلاننگ کمیشن آف پاکستانکی سفارش کی روشنی میں منصوبے کی تعمیر فوری اور جنگی بنیادوں پر شروع کی جائے اور باقی سڑکوں اور لنک روڈ کی تعمیر بعد میں کی جائے اگر وفاق پرانے روٹوں کے بارے میں اپنے وعدے سے پیچھے ہٹا تو اس سے فاٹا ارو خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں گہرا احساس محرومی اور احساس منافرت پیدا ہوگا،پاکستان پیپلز پارٹی کا کہناہے کہ حکومت نے بیٹھے بیٹھے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے میں متنازعہ انداز میں ایک صوبے کو اہمیت دے کر متنازعہ روٹ بنا دیا ہے، جس سے فیڈریشن کو بہت بڑا نقصان ہوگا،حکومت خود وفاق کو کمزور کررہی ہے،تحریک انصاف نے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس سمیت پوری قوم پاک چائنہ اقتصادی راہداری کو بڑے غور سے دیکھ رہی ہے حکومت نے اگر تعصبات کامظاہرہ کیا تو صوبوں کے مابین مزید خلیج بڑھ جائے گی جبکہ جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ منصوبے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے اور چائنہ کے صدر کے دورے سے پہلے اس مسئلے کو متنازعہ نہ بنایا جائے،جے یو آئی کا کہنا ہے کہ حکومت نے اعتماد دلایا ہے کہ پی سی ون کے تحت صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی اجازت کے بعد روٹس پر کام شروع کیاجائے گا ،تمام جماعتیں حکومت کے ساتھ مل بیٹھیں جے یو آئی تمام پارٹیوں کی پشت پر ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق منگل کے روز عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری میں روٹ کی تبدیلی کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس وفاقی دارالحکومت میں منعقد ہوئی جس میں پیپلز پارٹی کے سنئیر رہنما و اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اور سینیٹر فرحت اللہ بابر شریک ہوئے جبکہ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی ، جے یو آئی کے رہنما عطاء الرحمان ، نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو ،قومی وطن پارٹی کے رہنما آفتاب شیر پاؤ ، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ ، بی این پی عوامی کے نسیمہ احسان شاہ ، بی این پی مینگل کے رؤف مینگل اور پختونخواہ عوامی کے رحیم زیارت وال سمیت فاٹا اور وکلاء سوسائٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی ۔

اس موقع پرخورشید شاہ نے کہا کہ حکومت خود وفاق کو کمزور کررہی ہے کیونکہ حکومت نے بیٹھے بیٹھے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے میں متنازعہ انداز میں ایک صوبے کو اہمیت دے کر متنازعہ روٹ بنا دیا ہے جس سے فیڈریشن کو بہت بڑا نقصان ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں ستر فیصد لوگ دہشتگردی کا شکار ہوئے وہاں کی عوام کے محرومیوں کا ازالہ نہ کرنے کی وجہسے وہاں کے نوجوانوں نے دہشتگردی کا راستہ اختیار کرلیا ہو ۔

مسلم لیگ (ن ) کی حکومت جب بھی اقتدار میں آتی ہے تو اس سے صرف صوبائیت سوچ پر کام کرنے کی توقع ہوتی ہے چنیوٹ میں تانبے اور سونے کے نکلنے پر خوشی ہوئی مگر افسوس کہ اس خوشی کے مقام پر بھی متنازعہ بیانات دیئے گئے انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے سے ایک ہزار کلو میٹر سے زائد روٹ بڑھ جائے گا لیکن ملک میں پلاننگ کا بہت بڑا فقدان ہے سندھ میں کوئلے کے بڑے ذخائر موجود ہیں لیکن حکومت ساہیوال سے درآمد شدہ کوئلے پر بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پیدا کررہی ہے خیبر پختونخواہ میں چھتیس سو میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے مواقع موجود ہیں ۔

جبکہ خورشید شاہ نے پوری قوم اور تمام پارٹیوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ اس وقت سوچ بدلنے کی ضرورت ہے اور پیپلز پارٹی ملک اور قوم کے فیصلے کا ساتھ دے گی ۔ اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبے سے فیڈریشن کی آکائی خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سمیت فاٹا میں تجارت اور انفراسٹرکچر اور ملکی معیشت بہتر ہوگی کیونکہ بارہ سال سے دہشتگردی سے متاثرہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی محرومیوں کا ازالہ کسی قیمت پر نہیں کیا جاسکتا ۔

دہشتگردی سے ستر فیصد انڈسٹری صوبے کی متاثر ہوئی لیکن حکومت کی جانب سے کوئی جامع پلان ترتیب نہیں دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے پنتالیس ارب ڈالر کے اتنے بڑے منصوبے پر صوبوں سے مشاورت نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی ورکنگ گروپ بنایا گیا وفاقی حکومت کے منصوبوں میں شفافیت نہیں ہے ۔ شاہ محمود نے کہا کہ ہم نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں امن وامان کے حوالے سے وفاق سے ایف سی تعینات کرنے کا مطالبہ کیا لیکن ایف سی کو ڈپلومیٹک انکلیو سمیت کراچی میں تعینات کردیا گیا ۔

فاٹا میں منڈا ڈیم بن سکتا ہے جس سے زراعت کو فائدہ حاصل ہوگا لیکن حکومت کے پاس خیبر پختونخواہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

18-02-2015 :تاریخ اشاعت