آئندہ 5سالوں میں پاک ترک تجارت کو10ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں،آئی ڈی پیز کیلئے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

آئندہ 5سالوں میں پاک ترک تجارت کو10ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں،آئی ڈی پیز کیلئے 2کروڑ ڈالر دیں گے،ترک وزیراعظم، 2017ء کے بعد پاکستان میں توانائی کا بحران نہیں ہوگا، دہشت گردی کے خاتمہ کا نہ صرف عزم ہے بلکہ اس راستہ پر بھی چل نکلے ہیں،نوازشریف،نوازشریف اور ترک وزیراعظم کا پاک ترک بزنس فورم سے خطاب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 18فروری۔2015ء)ترک وزیراعظم احمد داؤد اوگلو نے کہا ہے کہ آئندہ 5سالوں میں پاک ترک تجارت کو10ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں،پاکستان کی مشکلات ہماری مشکلات ہیں،آئی ڈی پیز کیلئے 2کروڑ ڈالر دیں گے جبکہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ 2017ء کے بعد پاکستان میں توانائی کا بحران نہیں ہوگا، دہشت گردی کے خاتمہ کا نہ صرف عزم ہے بلکہ اس راستہ پر بھی چل نکلے ہیں،ترکی کے ساتھ تعلقات آنے والے دنوں میں مزید مضبوط ہوں گے،دونوں ممالک کے درمیان ریل رابطے جلد شروع ہونگے،پاکستان کو دہشتگردوں سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

منگل کو یہاں پاک ترک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیراعظم نے کہا کہ بطور ترک وزیراعظم پاکستان کا پہلا دورہ ہے،پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں،پاکستان مستقبل قریب میں ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔انہوں نے کہا کہ بہترین نظم ونسق سے تاریخ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ترکی نے مختلف شعبوں میں اصلاحات کرکے ترقی حاصل کی ہے،خود اعتمادی میں اضافے نے ترقی کو بلند مقام پر پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ کامیابی کیلئے سیاسی استحکام اور اسٹرٹیجک وژن کا ہونا ضروری ہے،معیشت کی بحالی کیلئے اصلاحات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ 90کی دہائی میں ترکی چھوڑ کر یورپ جانے والے واپس آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جغرافیائی لحاظ سے بڑی اہمیت حاصل ہے،سائنس کے میدان میں پاکستان کے پاس بہترین افرادی قوت ہے،اوورسیز پاکستانی بھی واپس پاکستان آئیں گے،پاکستان کی معیشت بہتر ہورہی ہے،پاکستان کے ساتھ11مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں،پاکستان کی تاجربرادری کی مشکلات کو دور کریں گے۔ملک وقوم کی ترقی کیلئے یکجہتی سے کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مشکلات ہماری مشکلات ہیں،آئی ڈی پیز کیلئے پاکستان کو2کروڑ ڈالر امداد دیں گے۔پاک ترکی بزنس فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ترکی کے وزیراعظم کا دورہ کرنے پر مشکور ہوں،میرے دل میں ترک عوام کی اتنی ہی قدر ہے جتنی پاکستانی عوام کی ہے۔ترکی میرا دوسرا نہیں بلکہ پہلا گھر ہے۔انہوں نے کہا کہ بحیثیت وزیراعظم پاک ترک تعلقات کو مزید بلندیوں تک لے جانا میرا وژن ہے،نقل مکانی کرنے والوں کے لئے ترکی کی امداد کا مشکور ہوں،دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوطی میں کردار ادا کرتا رہوں گا،مستقبل قریب میں دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاک ترکی کا دوطرفہ تعاون دونوں ملکوں کے عوام کیلئے تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے نئی راہیں کھولے گا،ہم دوطرفہ تعلقات کو تجارتی،ثقافتی اور کثیر الجہتی تعلقات میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اسحاق ڈار کی قیادت میں ٹیم ملکی معیشت کو استحکام کی جانب گامزن کر رہی ہے،معاشی اصلاحات کی بدولت روپے کی قدر میں اضافہ ہوا اور سٹاک مارکیٹ آج بلند ترین سطح پر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان مفاہمت کی11یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے،دہشتگردی کے خلاف جنگ ہر صورت جیتیں گے اور ہم یہ جنگ جیتنے کے لئے پرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ توانائی بحران کا حل کرنے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں اور سول سروس میں اصلاحات لانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپریل میں ایل این جی درآمد کر رہے ہیں اور ایل این جی درآمد کرکے توانائی کے شعبوں کو دی جائے گی،ایل این جی سے 3600میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں توانائی کے شعبے کو نظرانداز کیا گیا،توانائی بحران کے حل کیلئے متعدد منصوبے2017ء تک مکمل ہوجائیں گے،اس بحران کے خاتمے کیلئے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہیں گے،2017ء کے آخر تک بجلی وافر مقدار میں میسر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کیلئے تندہی سے کام کر رہی ہے،معاشی طور پر مستحکم پاکستان پرامن پاکستان کی ضمانت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان ریل رابطے جلد شروع ہوگے ،ریل رابطوں سے دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا ۔

18-02-2015 :تاریخ اشاعت