ترک وزیراعظم کا اسلام آباد میں مصروف دن، پاکستان، ترکی معاہدوں کی تقریبات ، سیاسی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
تاریخ اشاعت: 2015-02-18
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

ترک وزیراعظم کا اسلام آباد میں مصروف دن، پاکستان، ترکی معاہدوں کی تقریبات ، سیاسی و عسکری حکام سے ملاقاتیں، پاکستان اور ترکی کا تجارت‘ معیشت‘ زراعت‘ توانائی‘ دہشت گردی کے خلاف اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار،ہر مشکل گھڑی میں ترکی پاکستان کے ساتھ ہے‘ پاکستان کا ہر مسئلہ ہمارا مسئلہ ہے‘ آئندہ دو سالوں میں باہمی تجارت اور 3 ارب ڈالر تک لے جائیں گے‘ ترک وزیراعظم کا اعلان، بھارت کے ساتھ تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں توقع ہے کہ بھارت بھی تعمیری رویے کا مظاہرہ کرے گا، نواز شریف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 18فروری۔2015ء) پاکستان اور ترکی نے تجارت‘ معیشت‘ زراعت‘ توانائی‘ دہشت گردی کے خلاف اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوگلو نے کہا ہے کہ ہر مشکل گھڑی میں ترکی پاکستان کے ساتھ ہے‘ پاکستان کا ہر مسئلہ ہمارا مسئلہ ہے‘ آئندہ دو سالوں میں باہمی تجارت اور 3 ارب ڈالر تک لے جائیں گے‘ حکومت پاکستان کی طرف سے بھارت سے تعلقات کی بہتری اور علاقے میں امن کے لئے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کرتے ہیں‘ پیرس میں حملے پر اگر عالمی برادری مشترکہ مارچ کرتی ہے تو پاکستان میں ہونے والی ہلاکتوں اور مسجدوں کو جلائے جانے پر بھی یکجہتی کا مظاہرہ ہونا چاہئے جبکہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ علاقائی اور عالمی امن میں ترکی کا احسن کردار ہے۔

بھارت کے ساتھ تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں توقع ہے کہ بھارت بھی تعمیری رویے کا مظاہرہ کرے گا۔ وہ منگل کو یہاں سٹریٹجک تعاون کونسل کے اجلاس اور مختلف شعبوں میں تعاون کے سمجھوتوں پر دستخط کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ مجھے ترکی کے وزیراعظم اور ان کے وفد کا خیرمقدم کر کے خوشی ہوئی ہے پاکستان ان کا دوسرا گھر ہے ہمارے درمیان منفرد تعلقات ہیں اور باہمی اعتماد میں گہرائی ہے ترکی نے پشاور میں ہونے والے سانحہ پر پاکستان سے بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور ہم ساتھ دینے پر ان کے شکر گزار ہیں۔

دونوں ملکوں نے مشکل وقت میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے انہوں نے کہا کہ ترکی کا اقتصادی ترقی اور علاقائی و عالمی امن میں اہم کردار ہے ہم نے سٹریٹجک تعاون کونسل کے چوتھے اجلاس میں باہمی تعلقات کا جائزہ لیا اور مالیات معیشت‘ توانائی‘ تعلیم ‘ سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔ ہم اس عزم کو دہراتے ہیں کہ اپنے خصوصی تعلقات کو سٹریٹجک پارٹنر شپ میں تبدیل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان آزادانہ تجارتی سمجھوتے سے اس جانب پیش رفت ہو گی۔

دونوں ملکوں کے درمیان دہشتگردی کے خلاف تعاون مضبوط ہو گا اور اج ہونے والے سمجھوتوں سے بھی اس تعاون کو فروغ ملے گا۔ ہمارے درمیان ہمیشہ تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہوئے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ دونوں ملک اپنے علاقوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں انہیں مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے جبکہ مواقع بھی دستیاب ہیں۔ میں نے ترک وزیراعظم کو اپنی امن کی خواہش اور ترقی کے لئے اقدامات کے بارے میں بتایا۔ پاکستان بھارت سے اچھے ہمسائیگی تعلقات اور تمام تنازعات کا حل چاہتا ہے توقع ہے کہ بھارت بھی تعمیری رویے کا مظاہرہ کرے گا تاکہ خطے میں سٹریٹجک استحکام قائم کیا جا سکے۔

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے نبی پاک کے خاکوں کی اشاعت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر اسلام اور نبی پاک کی توہین ہر گز قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اور پاکستان خطے میں امن استحکام اور باہمی علاقائی و عالمی سطح پر تعاون کے فروغ کے لئے کام کرتے رہیں گے۔ اس موقع پر ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوگلو نے پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ میں وزیراعظم کی حیثیت سے پہلی مرتبہ پاکستان آیا ہوں لیکن وزیرخارجہ اور دیگر حیثیتوں میں کئی مرتبہ آ چکا ہوں۔

مجھے یہاں آنے پر خوشی ہوئی ہے ہم نے مشترکہ کونسل کے اجلاس کی صدارت کی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان صدیوں سے قریبی مذہبی و ثقافتی تعلقات ہیں اور ہم پاکستانی عوام کی یکجہتی کو نہیں بھلا سکتے۔ پاکستان کا مسئلہ ہمارا مسئلہ ہے اور ہمارا مسئلہ پاکستان کا۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یکجہتی کا اظہار کیا ہے اس حوالے سے عارضی بے گھر افراد اور سیلاب کے متاثرین کی بحالی کے لئے اضافی 2 کروڑ ڈالرز دینگے۔

کسی قسم کی ضرورت ہو ہم ساتھ ہیں۔ سٹریٹجک تعاون کونسل میں دوطرفہ اور عالمی امور کا جائزہ لیا اور اہم فیصلے کئے۔ آنے والے مہینوں میں مزید سمجھوتے ہونگے ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ 2 سالوں کے دوران تجارتی حجم کو 3 ارب ڈالرز اور اس کے بعد 5 سے 10 ارب ڈالرز تک لے جائیں۔ آزادانہ تجارت کے سمجھوتے سے مزید مواقع ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی فاصلوں کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان مواصلاتی رابطے کم ہیں۔

بحری‘ فضائی اور ریل رابطوں کو بڑھانے کے لئے سمجھوتے کریں گے کیونکہ تجارت بڑھانے کے لئے مواصلاتی رابطے ناگزیر ہیں۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے بھی حکومت پاکستان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے سمجھوتوں کی تعداد 51 ہو چکی ہے اور مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں یہ تعاون مزید مضبوط ہو گا۔ ہم مختلف چیلنجوں کا مقابلہ کر رہے ہیں انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن سے پاکستان اور ترکی میں بھی امن قائم ہو گا۔

افغانستان میں نئی حکومت آنے کے بعد دونوں حکومتوں کے درمیان شاندار تعاون ہے اور اعلیٰ سطحی رابطے جاری ہیں۔ ترک وزیراعظم نے بھارت سے مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل اور علاقے میں امن کے لئے پاکستان کے اقدامات کی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن کے لئے کوششوں اور درپیش چیلنجوں میں ساتھ دیتے رہیں گے۔ دہشت گردی اور دیگر امور پر ہمارا موقف یکساں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر دہشت گردی کے خلاف مارچ ہوتا ہے اور ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں تو پاکستان میں ہونے والی ہلاکتوں اور مسجدوں کو جلانے کے واقعات پر بھی یکجہتی کا اظہار ہونا چاہئے۔

اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں ہم دونوں جمہوری ملک ہیں اور عالمی سطح پر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میرا دورہ مختصر ہے مگر وعدہ کرتا ہوں کہ جلد طویل دورے پر آؤں گا۔پاکستان اور ترکی کے درمیان 11 معاہدوں کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ۔منگل کے روز پاکستان اور ترکی کے درمیان سٹرٹیجک تعاون کونسل کے اجلاس کے بعد 11 معاہدوں کی یادداشت پر دستخط کئے گئے ،معاہدوں میں تعلیم ،تجارت ،مواصلات،انرجی ،سائنس و ٹیکنالوجی ،تیل و گیس کی پیداوار،ریلوے، ٹرانسپورٹ ،سڑکیں،بینکنگ اورعلاقائی تعاون سمیت دیگر شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ۔

اس موقع پر وزیر اعظم نواز شریف اور ترک وزیر اعظم احمد داؤ اوگلو بھی موجود

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

18-02-2015 :تاریخ اشاعت