راولپنڈی ، مسلح افراد کی فائرنگ سے اہلسنت و الجماعت کے ترجمان مظہر صدیقی جاں بحق ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-16
تاریخ اشاعت: 2015-02-16
تاریخ اشاعت: 2015-02-16
تاریخ اشاعت: 2015-02-16
تاریخ اشاعت: 2015-02-16
تاریخ اشاعت: 2015-02-16
تاریخ اشاعت: 2015-02-16
تاریخ اشاعت: 2015-02-16
تاریخ اشاعت: 2015-02-16
تاریخ اشاعت: 2015-02-16
تاریخ اشاعت: 2015-02-16
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

راولپنڈی ، مسلح افراد کی فائرنگ سے اہلسنت و الجماعت کے ترجمان مظہر صدیقی جاں بحق ، دو ساتھی زخمی ،کراچی میں اہلسنت والجماعت کے مرکزی صدر مولانا اورنگزیب فاروقی قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ،مولانا اورنگزیب فاروقی پر قاتلانہ حملے اورمولانا مظہر صدیقی کے قتل کے خلاف کارکنوں کا سپریم کورٹ کے سامنے میت کے ساتھ دھرنا ،پولیس اور مظاہرین کے درمیان چھڑپیں ، پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ ، متعدد زخمی ،نماز جنازہ ادا کی گئی

کراچی/اسلام آباد/ راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 16فروری۔2015ء)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں مسلح افراد کی فائرنگ سے اہلسنت و الجماعت کے ترجمان مظہر صدیقی جاں بحق ، دو ساتھی شدید زخمی ،کراچی میں اہلسنت والجماعت کے مرکزی صدر مولانا اورنگزیب فاروقی قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ، راولپنڈی اور اسلام آباد میں سکیورٹی مزید ہائی الرٹ کر دی گئی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ،راولپنڈی واقعہ اور کراچی میں اہلسنت و الجماعت کے صدر مولانا اورنگزیب فاروقی پر قاتلانہ حملے اور مولانا ظہر صدیقی کے قتل کے خلاف اہلسنت و الجمات کے کارکنان نے میت لیکر سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیا ، نماز جنازہ ادا کی گئی ، ریڈ زون میں داخلے پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ، پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ اہلسنت و الجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کہا ہے کہ حکومت فوری قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفر کر دار تک پہنچائے ، وزیر داخلہ 21 ویں ترمیم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں۔

اتوار کو اہلسنت و الجماعت کے ترجمان مظہر صدیقی پر تھانہ گولڑہ کی حدود میں پیر ودہائی موڑ کے قریب دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کردی گئی جس کے نتیجے میں مولانا مظہر صدیقی جاں بحق اور دو ساتھی محمد ابراہیم اور شیر دل زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کیلئے پمز ہسپتال منتقل کر دیا گیاذرائع کے مطابق مولانا مظہر صدیقی کو چھ گولیاں سینے میں لگیں اور وہ موقع پر اللہ کو پیارے ہوگئے پولیس ذرائع نے بتایا کہ مولانا مظہر صدیقی پر حملے کا خطرہ تھا اور انھیں بتایا گیا تھا کہ گھر سے نکلنے سے پہلے مقامی پولیس کو آگاہ کریں تاہم بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے انتظامیہ کو اس سے آگاہ نہیں کیا تاہم تھانہ سبزی منڈی پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی فائرنگ کے واقعہ کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ، وفاقی وزیر داخلہ نے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ادھر اہلسنت والجماعت نے مولانا مظہر صدیقی کی سپریم کورٹ کے سامنے نماز جنازہ ادا کر نے کا اعلان کیا جس کے بعد کارکن تقریباً دو سے تین بجے کے قریب مولانا مظہر صدیقی کی میت لیکر سپریم کورٹ کے سامنے پہنچے اس دور ان پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوگئے کارکنوں کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے پولیس کی بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی تاہم کارکنان ریڈ زون میں سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہوئے کارکنان نے سپریم کورٹ کے سامنے میت رکھ کر دھرنا دیا اور نماز جنازہ ادا کی گئی ترجمان اہلسنت و الجماعت نے کہاکہ چیف جسٹس پاکستان معاملہ کا از خود نوٹس لیں۔

مولانا محمد احمد لدھیانوی نے شاہراہ دستور پر دھرنا کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہزاروں قائدین اور کارکنان کو

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

16-02-2015 :تاریخ اشاعت