سینٹ کے امیدواروں کے گرد گھیرا تنگ‘ الیکشن کمیشن نے تمام اداروں کو ”ریڈ الرٹ“ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
- مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سینٹ کے امیدواروں کے گرد گھیرا تنگ‘ الیکشن کمیشن نے تمام اداروں کو ”ریڈ الرٹ“ کر دیا،کوئی نادھندہ یا واجبات کی عدم ادائیگی میں ملوث شخص حصہ نہ لے سکے گا‘ نیب‘ ایف بی آر‘ سٹیٹ بنک اور واپڈا سے معلومات طلب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 15فروری۔2015ء) الیکشن کمشن نے سینٹ کے امیدواروں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے اور کوئی ایسا امیدوار انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گا جو کسی بھی ادارے کا نادھندہ ہو یا ٹیکسوں کی ادائیگی میں ہیرپھیر کرتا ہو اس مقصد کے لئے تمام متعلقہ اداروں کو ”ریڈ الرٹ“ کر دیا گیا ہے اور الیکشن کمشن آف پاکستان نے سینٹ کے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لئے نیب‘ واپڈا‘ ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کو فوکل پرسن مقرر کر کے ہدایت کی ہے تاکہ ان سے متعلقہ معلومات حاصل کی جا سکیں۔

اطلاعات کے مطابق الیکشن کمشن نے نادرا‘ سٹیٹ بنک‘ قومی احتساب بیورو‘ فیڈرل بورڈ آف ریونیو‘ ہیپکو‘ پی ٹی اے سمیت داخلہ‘ پیٹرولیم‘ خزانہ‘ پانی و بجلی اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ادارے کے سینئر افسر کو فوکل پرسن مقرر کریں جن سے سینٹ الیکشن کے ریٹرننگ افسران رابطہ رکھیں گے اور امیدواروں کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے۔ نادرا ہر امیدوار کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کو چیک کرے گا‘ دیگر ادارے ان کے نادھندہ ہونے‘ کرپشن میں ملوث ہونے اور دیگر ان جرائم پر معلومات دیں گے جن سے کوئی بھی امیدوار نااہل ہو سکتا ہے۔

قانون کے مطابق بنک قرضوں اور یوٹیلٹی بلوں کا نادھندہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا۔ آر اوز کی طرف سے 19 اور 20 فروری کو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس ضمن میں جب الیکشن کمیشن کے ذرائع سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ان تمام انتظامات کا مقصد امیدواروں کی مکمل جانچ پڑتال ہے تاکہ بعد میں آنے والے اعتراضات سے بچا جا سکے۔

15-02-2015 :تاریخ اشاعت