پاک بھارت وزرائے اعظم کا حالیہ رابطہ بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات کی طر ف مثبت قدم ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
تاریخ اشاعت: 2015-02-15
- مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

پاک بھارت وزرائے اعظم کا حالیہ رابطہ بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات کی طر ف مثبت قدم ہے‘ سرتاج عزیز،مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے ہٹ کر متبادل حل نکالنا انتہائی مشکل ہے‘ حافظ سعید ممبئی حملوں کا ملزم نہیں‘ نہ ہی اس کے خلاف شواہد قابل قبول ہیں‘ جماعت الدعوة نوے فیصد سماجی بہبود کے کام کرتی ہے‘بھارت کو افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف درپردہ جنگ کے لئے استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے، انٹرویو

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 15فروری۔2015ء) وزیراعظم پاکستان کے امور خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز نے میاں نواز شریف سے نریندر مودی کے ٹیلیفونک رابطے کو ایک محتاط پرامیدی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کا ہدف بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات کا آغاز ہے۔ تاہم اس کا انحصار خارجہ سیکرٹری کی سطح کے مذاکرات پر ہے۔ سرینگر سے شائع ہونیوالے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنا ایک اچھا تاہم محتاط پر امیدی کا اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ اقدام سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کے آغاز ہے تاہم اس بارے میں واضح یقین کا انحصار دونوں ممالک کے سیکرٹری خارجہ کے درمیان ہونیوالے مذاکرات سے ہی ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی سیکرٹری خارجہ پاکستان کا دورہ کرتے ہیں تو یقیناً مذاکرات کے ایجنڈے‘ اور ٹائم لائن پر بھی بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار مذاکراتی عمل شروع ہو جائے تو اس میں خود بخود تیزی آجائیگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ اور دیگر عالمی ممالک کے دباؤ اور کچھ کشمیر کے اندرونی گروہوں کے ممکنہ کردار کا نتیجہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کیساتھ مذاکراتی عمل کیلئے پیشرفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور دیگر ممالک اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ بھارت نے گزشتہ سال اگست میں خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات کے حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا نہیں کیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ وہ بھارت پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے آغاز کیلئے دباؤ ڈال رہے تھے۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15-02-2015 :تاریخ اشاعت