سانحہ بلدیہ ٹاؤن،قوم اسلام آبادکے فیصلوں کی منتظر ہے ،سراج الحق،یورپ میں9 افراد ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
- مزید خبریں

پشاور

تلاش کیجئے

سانحہ بلدیہ ٹاؤن،قوم اسلام آبادکے فیصلوں کی منتظر ہے ،سراج الحق،یورپ میں9 افراد مارے گئے 40 ممالک کے سربراہان اکٹھے ہوگئے،امریکہ میں مسلمان جو ڑے کو شہید کر دیا گیا ،انصاف کا علمبردار امریکہ خاموش کیوں ہے؟،ہمارا نظام بری طرح ناکام ہوگیا ہے،لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا ،اس نظام کیخلاف جہاد کرینگے،سینیٹ الیکشن کیلئے ووٹنگ اوپن ہونی چاہیے ،سینٹ الیکشن کیلئے کاغذات نامزدگی کے بعد میڈیا سے گفتگو

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 14فروری۔2015ء)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے حوالے سے جی آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد قوم اسلام آباد کی طرف دیکھ رہی ہے کہ حکمران کیا فیصلہ کرتے ہیں ،عدالتیں متاثرین کو انصاف فراہم کرتی ہیں یا نہیں ۔یور پ میں9 لوگ مارے گئے تو40ممالک کے سربراہان اکٹھے ہوگئے یہاں لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا یہ کیسا نظام ہے ہم اس نظام کو نہیں مانتے اس نظام کے خلاف جہاد کریں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں صوبائی الیکشن کمیشن میں سینٹ الیکشن کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن کی رپورٹ اخبار یا صحافی کا تجزیہ ہیں بلکہ ذمہ داراران اداروں نے 3 سال کی تحقیقات کے بعد رپورٹ جاری کی ہے اس رپورٹ میں اشارہ نہیں بلکہ نام آیا ہے ،عوام انصاف کے لئے اسلام آباد کی طرف دیکھ رہی ہے ،امریکہ میں 30 مسلمانوں کو گھر میں داخل ہو کر قتل کر دیا گیا ،فرانس میں 9لو گ مارے گئے تو 40 ممالک کے سربراہان پہنچ گئے ۔

انہوں نے کہا کہ ساری قوم دیکھ رہی ے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد حکومت اور عدلیہ کیا کرے گی۔دیکھتے ہیں کہ مزدوروں کے ورثاء کو انصاف ملتا ہے یا نہیں ۔دیکھتے ہیں کہ اس ملک میں صرف بڑوں کے خون کی قیمت ہے یا غریبوں کی بھی داد رسی ہوتی ہے اگر اس ملک میں مزدور خون کی کوئی قیمت ہے تو ان کو انصاف دلایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ فیکٹری میں آگ لگنے کے بعد لوگوں کو اندر نہیں جانے دیا گیا جب لاشیں کوئلے کی راکھ بن گئیں تب لوگوں کو اندر جانے دیا گیا ۔

فیکٹری کے مالک نے خود

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14-02-2015 :تاریخ اشاعت