وفاق المدارس نے دینی اداروں میں حکومت کی حالیہ پالیسیوں کو امتیازی قرار دیتے ہوئے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
- مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

وفاق المدارس نے دینی اداروں میں حکومت کی حالیہ پالیسیوں کو امتیازی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا، جب تک دینی قیادت کے ساتھ معاملات طے نہیں ہوجاتے کوئی مدرسہ رجسٹریشن یا کوائف بارے معلومات فراہم نہ کرے،علماء کی مدارس کے منتظمین کو تنبیہ، دوروزہ اجلاس کا اعلامیہ ،مقتدرحلقوں سے براہ راست رابطے اور دینی مدارس کی حریت کا تحفظ کرنے کا فیصلہ، 21ویں آئینی ترمیم میں اصلاح کی جائے،علماء کا حکومت سے مطالبہ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 14فروری۔2015ء)ملک کی مذہبی قیادت اور ارباب مدارس نے دینی اداروں میں حکومت کی حالیہ پالیسیوں کو امتیازی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا، جب تک دینی قیادت کے ساتھ معاملات طے نہیں ہوجاتے کوئی مدرسہ رجسٹریشن یا کوائف بارے معلومات فراہم نہ کرے،مقتدرحلقوں سے براہ راست رابطے اور دینی مدارس کی حریت کا تحفظ کرنے کا فیصلہ، 21ویں آئینی ترمیم میں اصلاح کی جائے،علماء کا حکومت سے مطالبہ ، اجلاس میں شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان ،مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر ،مولانا مفتی محمد تقی عثمانی ،مولانا فضل الرحمن ،مولانا محمد حنیف جالندھری ،مولانا انوار الحق ،مولانا سعید یوسف ،مولانا ڈاکٹرسیف الرحمن ،مولانا قاری مہر اللہ ،مولانا قاضی محمود الحسن اشرف ،مولانا زبیر احمد صدیقی اورمولانا ادریس سمیت سینکڑو ں علماء شریک ہوئے۔

پاکستان میں دینی مدارس کے سب سے بڑے اور قدیم نیٹ ورک وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ اور مجلس شوریٰ کے دارالعلوم کراچی میں جاری رہنے والے دو روزہ اجلاس کے بعد جو اعلامیہ جاری کردیاگیاہے۔ جس میں ملک بھر کی دینی قیادت اور مدارس دینیہ کے ذمہ داران نے شرکت کی ۔ان دونوں اجلاسوں کے بعد جو متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں نظریہ پاکستان ،آئین ِپاکستان اور خاص طور پر پاکستان کے دینی مدارس اور مذہبی طبقات کے خلاف بنائی جانے والی امتیازی پالیسیوں اور پروپیگنڈہ مہم کو مسترد کرنے کا اعلان کیاگیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اگر مدارس مخالف روش کو ترک نہ کیا گیا تو ہر سطح پرایسی امتیازی پالیسیوں کی مخالفت کی جائے گی ۔

اجلاس کے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14-02-2015 :تاریخ اشاعت