نیب نے دوہری ملازمت کرنے والے 35ملازمین کوگرفتارکرکے وصولی کے بعد ملازمتوں سے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
تاریخ اشاعت: 2015-02-14
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کوئٹہ

تلاش کیجئے

نیب نے دوہری ملازمت کرنے والے 35ملازمین کوگرفتارکرکے وصولی کے بعد ملازمتوں سے فارغ کردیاہے،قمرزمان چوہدری، نیب میں بدعنوانی اورمحکمانہ بدنظمی کے مرتکب 8نیب ملازمین کیخلاف کاروائی کی جارہی ہے، 4ملازمین کوملازمت سے فارغ کردیاگیاہے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف شکایات پرکام جاری ہے ٹھوس شواہدملنے کے بعد شکایات کوانکوائری میں تبدیل کیاجائیگاژوب میرعلی روڈمیں ہونے والی بدعنوانی کی تحقیقات کے بعد اس منصوبے کو12ارب سے 7ارب روپے تک لاکراس میں ملوث سرکاری ملازمین کیخلاف کاروائی آخری مراحل میں ہے نیب پرناکوئی سیاسی دباؤ ہے نہ ہم کوئی دباؤ قبول کرینگے گزشتہ برس نیب بلوچستان نے 70انکوائریاں مکمل کیں جبکہ 26کیسزانویسٹی گیشن کے مرحلے میں ہیں اور24ریفرنس دائرکئے گئے ہیں،چےئرمین نیب کی کوئٹہ میں پریس کانفرنس

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 14فروری۔2015ء)نیب کے چےئرمین قمرزمان چوہدری نے کہاہے کہ نیب نے دوہری ملازمت کرنے والے 35ملازمین کوگرفتارکرکے وصولی کے بعد ملازمتوں سے فارغ کردیاہے نیب میں بدعنوانی اورمحکمانہ بدنظمی کے مرتکب 8نیب ملازمین کیخلاف کاروائی کی جارہی ہے جبکہ 4ملازمین کوملازمت سے فارغ کردیاگیاہے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف شکایات پرکام جاری ہے ٹھوس شواہدملنے کے بعد شکایات کوانکوائری میں تبدیل کیاجائیگاژوب میرعلی روڈمیں ہونے والی بدعنوانی کی تحقیقات کے بعد اس منصوبے کو12ارب سے 7ارب روپے تک لاکراس میں ملوث سرکاری ملازمین کیخلاف کاروائی آخری مراحل میں ہے نیب پرناکوئی سیاسی دباؤ ہے نہ ہم کوئی دباؤ قبول کرینگے گزشتہ برس نیب بلوچستان نے 70انکوائریاں مکمل کیں جبکہ 26کیسزانویسٹی گیشن کے مرحلے میں ہیں اور24ریفرنس دائرکئے گئے ہیں ان خیالات کااظہارانہوں نے گزشتہ روزدورہ کوئٹہ کے دوران مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کے دوران کیااس موقع پرڈائریکٹرجنرل نیب بلوچستان سیدخالد اقبال ،ڈائریکٹرصفدرشاہ ،ڈی جی پی آر کامران اسدسمیت دیگرآفیسران بھی موجود تھے قمرزمان چوہدری نے بتایاکہ میرے دورہ کامقصدنیب بلوچستان کی انسپکشن تھی تاکہ 2014کی کارکردگی کاجائزہ لیکرخامیوں کودورکرکے بہترحکمت عملی اپناتے ہوئے اپنے کام کوآگے بڑھایاجائے کیونکہ 2014کااگر2013سے موازنہ کیاجائے تو2014میں بہترنتائج سامنے آئے ہیں کیونکہ سال کے شروع میں ہی آفیسران اورعملے کی کمی کودورکردیاگیاتھااورمزیدتین ماہ کاوقت دیاہے کہ اپناکام ختم کریں ژوب میرعلی شاہراہ کے منصوبے کو4ارب سے 12ارب تک بڑھانے اوربدعنوانیوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ اس کیس کی تحقیقات آخری مرحلے میں ہے نیب کی مداخلت کی وجہ سے محکمہ پی اینڈڈی اورسی اینڈڈبلیوکے آفیسران سے تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں ہماری کوشش تھی کہ تحقیقاتی مرحلے کے دوران روڈ کی تعمیرکوبھی مکمل کرلیاجائے اورنیب کی کاوشوں سے ہی یہ منصوبہ 4ارب سے 12ارب روپے سے کم ہوکر7ارب روپے تک لایاگیاہے جسے حکومت کوفائدہ ہواہے انہوں نے کہاکہ نیب پرکوئی سیاسی یاکہیں اورسے کوئی دباؤ نہیں اگرہم پرکوئی دباؤپیداکرنے کی کوشش کی گئی اس سے کامیاب نہیں ہونے دیاجائیگاگزشتہ ایک سال 4ماہ کے دوران موجودہ حکومت کی جانب سے ہم پرکوئی دباؤ نہیں ڈالاگیاایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ سیاستدانوں اوربیوروکریٹس دونوں کے ہی کیسز ہمارے پاس آتے ہیں ریکوڈک میں بدعنوانی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ تاحال اس بارے میں ہمارے پاس کوئی شواہد نہیں پہنچے تمام ہوائی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14-02-2015 :تاریخ اشاعت