سپریم کورٹ نے گردوں کے مفت علاج معالجہ کی سہولت ختم کرنے پر وفاقی اور کے پی کے حکو ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
- مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سپریم کورٹ نے گردوں کے مفت علاج معالجہ کی سہولت ختم کرنے پر وفاقی اور کے پی کے حکو مت سے جواب طلب کرلیا،حکومت پنجاب کی کارکردگی کی تعریف، سندھ حکومت کی جانب سے دائر جواب غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے دوبار جواب داخل کرانے کی ہدایت، آئین و قانون کے مطابق صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے اس پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے،چیف جسٹس ناصرالملک کے ریما رکس

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 13فروری۔2015ء) سپریم کورٹ نے وفاق کے زیراہتمام گردوں کے مفت علاج معالجہ کی سہولت ختم کرنے کیخلاف طارق اسد ایڈووکیٹ کی درخواست پر وفاقی حکومت اور کے پی کے سے جواب طلب کرلیا‘ حکومت پنجاب کی کارکردگی کو سراہا گیا اور سندھ حکومت کی جانب سے دائر جواب غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے دوبار جواب داخل کرانے کی ہدایت کی گئی۔ چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جمعرات کے روز کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس ناصرالملک نے سندھ کی ایک صفحے پر مشتمل رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ایک صفحے پر مشتمل رپورٹ کو مفصل رپورٹ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مفصل رپورٹ دی جائے اور سہولت فراہم کرنے والے ہسپتالوں کی فہرست بھی دی جائے۔ آئین و قانون کے مطابق صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے اس پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے یہ ریمارکس گذشتہ روز دئیے۔ اس دوران وفاقی حکومت نے عدالت سے استدعاء کی کہ اس درخواست کے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13-02-2015 :تاریخ اشاعت