20ارب ڈالر سے زائد کی پاکستان چین اقتصادی راہداری کا روٹ تبدیل کرنے کے معاملے پر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

20ارب ڈالر سے زائد کی پاکستان چین اقتصادی راہداری کا روٹ تبدیل کرنے کے معاملے پر قومی اسمبلی میں حکومتی وضاحتیں بے اثر،سینٹ کی مواصلات کمیٹی کا عدم اطمینان کااظہار ،پرانے روٹ پر ہی اقتصادی راہداری کا منصوبہ مکمل کرنے کی سفارشات وزیراعظم کو بھجوادیں، چیئرمین این ایچ اے نے روٹ تبدیل نہ کئے جانے پر بار بار قسمیں کھائیں مگر اراکین مطمئن نہ ہوئے،سفارشات پر عمل نہ ہوا تو اس منصوبے پر کام نہیں ہونے دینگے اور یہ بھی کالا باغ ڈیم بن جائے گا،ارکان کمیٹی کی دھمکی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 13فروری۔2015ء)20ارب ڈالر سے زائد مالیت سے تعمیر کی جانے والی پاکستان چین اقتصادی راہداری کا روٹ تبدیل کرنے کے معاملے پر قومی اسمبلی میں حکومتی وضاحتوں کے باوجود سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات نے ایک بار پھر عدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے پرانے روٹ پر ہی اقتصادی راہداری کا منصوبہ مکمل کرنے کی سفارشات وزیراعظم کو بھجوادی ہیں ۔ چیئرمین این ایچ اے نے روٹس تبدیل نہ کئے جانے سے متعلق اجلاس میں حلف بھی اٹھالیا جبکہ بار بار قسمیں بھی کھائیں لیکن کمیٹی اراکین بریفنگ سے مطمئن نہ ہوئے ۔

اراکین نے اپنے تحفظات میں کہا کہ اقتصادی راہداری کا روٹ تبدیل کرنے سے چار سو کلو میٹر اضافی روڈ بنایا جائے گا جبکہ بلوچستان کے اہم ترین اضلاع کوئٹہ ، ژوب اور دیگر کو اکنامک کوریڈور سے الگ رکھا جائے گا ۔ کمیٹی اراکین نے واضح کیا کہ اگر سفارشات پر عمل نہ ہوا تو اس منصوبے پر کام نہیں ہونے دینگے اور یہ بھی کالا باغ ڈیم بن جائے گا ۔ قائمہ کمیٹی کااجلاس چیئرمین محمد داؤد خان اچکزئی کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں کامل علی آغا ،ہمایوں خان مندوخیل ، روزی خان کاکڑ ، محمد زاہد خان اور دیگر نے بھی شرکت کی ۔

اجلاس کے آغاز پر کمیٹی اراکین نے ایجنڈے سے ہٹ کر اقتصادی راہداری ( اکنامک کوریڈور ) کے حوالے سے چیئرمین این ایچ اے سے استفسار کیا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے بتایا ہے کہ اقتصادی راہداری کا روٹ تبدیل نہیں کیاجارہا ہے لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں چین کے ساتھ اکنامک کوریڈور کے حوالے سے جو روٹ طے ہوا تھا اس سے ہٹ کر دوسرے روٹ پر کام شروع ہے اس حوالے سے این ایچ اے کو کمیٹی کی طرف سے ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ پہلے منظور شدہ کوریڈور کے روٹ کے مطابق ہی منصوبے پر کام شروع کیا جائے۔

اس موقع پر چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ نے اراکین کو بتایا کہ اراکین ہر قسم کی تسلیم کرسکتے ہیں منصوبے پر کسی قسم کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا اس پراجیکٹ پر پہلے مونو گرافی سٹڈی ہوئی تھی اب اس منصوبے پر پیش رفت ہورہی ہے لیکن اسے متنازعہ بنایا جارہا ہے جو درست نہیں ہے انہوں نے بتایا کہ چین کے ساتھ جنوری 2014ء سے اس منصوبے پر بات چل رہی ہے چین کی طرف سے کوریڈور کی چھ لائنیں بنانے پر اعتراض سامنے آیا تھا اب اس حوالے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13-02-2015 :تاریخ اشاعت