بلدیاتی انتخابات کے شیڈول میں عدم تعاون،پنجاب اور سندھ کے چیف سیکرٹریز اور سیکرٹریز ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

بلدیاتی انتخابات کے شیڈول میں عدم تعاون،پنجاب اور سندھ کے چیف سیکرٹریز اور سیکرٹریز بلدیات سے تحریری وضاحت طلب،کنٹونمنٹ بورڈ زمیں انتخابات کے بل پر وزارت دفاع سے 15روز میں رپورٹ مانگ لی،پنجاب اور سندھ معاملے کو طول دیکر سال دو سال مزید گزارنا چاہتے ہیں،چیف جسٹس،آئین و قانون کے مطابق بروقت بلدیاتی انتخابات کرانا حکومتوں کی ذمہ داری ہے، پنجاب نومبر کا کہہ رہا ہے سندھ اگلے نومبر کی بات کر رہا ہے،ریمارکس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 13فروری۔2015ء) سپریم کورٹ نے پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی حتمی تاریخ کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے عدم تعاون پر چیف سیکرٹریز اور سیکرٹریز بلدیات سے تحریری وضاحت 26 فروری تک طلب کر لی جبکہ کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کے لئے مجوزہ بل کی منظوری کے حوالے سے وزارت دفاع سے 15 روز میں پیش رفت رپورٹ طلب کی ہے۔ چیف جسٹس ناصر الملک نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں پنجاب اور سندھ معاملے کو جان بوجھ کر طول دیکر سال دو سال مزید گزارنا چاہتے ہیں اور بلدیاتی انتخابات کرانے میں سنجیدہ نہیں ۔

گزشتہ سماعت پر حکم دیا تھا کہ صوبے الیکشن کمیشن کے ساتھ اجلاس کریں جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن ان دو صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد بارے کوئی حتمی تاریخ دے سکے۔ آئین و قانون کے مطابق بروقت بلدیاتی انتخابات کرانا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ افسوس ہے کہ سندھ اور پنجاب نے اس حوالے سے حتمی تاریخ دینے کے لئے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا ،وزارت دفاع نے بھی کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کے لئے ابھی تک کچھ نہیں کیا ہے۔

پنجاب نومبر کا کہہ رہا ہے سندھ اگلے نومبر کی بات کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روز دیئے ہیں جبکہ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت شروع کی تو الیکشن کمیشن کے وکیل اکرم شیخ نے سندھ اور پنجاب حکومتوں کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیئے اور کہا کہ حکومتوں نے ابھی تک ایسا کوئی مواد نہیں دیا کہ جس کی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13-02-2015 :تاریخ اشاعت