سپریم کورٹ نے عوام کے ساتھ پولیس کے ناروا سلوک ، پولیس نظام اور تھانہ کلچر کی مثبت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
تاریخ اشاعت: 2015-02-13
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سپریم کورٹ نے عوام کے ساتھ پولیس کے ناروا سلوک ، پولیس نظام اور تھانہ کلچر کی مثبت تبدیلی کے لئے سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث کو عدالتی معاون مقرر کر دیا، آئینی نکات کے طور پر جواب مانگ لیا ، ملک میں تھانہ کلچر کا خاتمہ چاہتے ہیں، پولیس کو عوام پر تشدد کے لیے نہیں بلکہ صحیح معنوں میں عوام کی خدمت گار کے طورپر دیکھنا چاہتے ہیں،جسٹس جواد ایس خواجہ ، سماعت انیس فروری تک ملتوی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 13فروری۔2015ء) سپریم کورٹ نے عوام کے ساتھ پولیس کے ناروا سلوک ، پولیس نظام اور تھانہ کلچر کی مثبت تبدیلی کے لئے سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے ان سے آئینی نکات کے طور پر جواب مانگ لیا ہے ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک میں تھانہ کلچر کا خاتمہ چاہتے ہیں پولیس کو عوام پر تشدد کے لیے نہیں بلکہ صحیح معنوں میں عوام کی خدمت گار کے طورپر دیکھنا چاہتے ہیں چالان کیوں تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اس میں پراسکیوشن کا کیا کردار ہے ۔

لوگوں کی پولیس کیخلاف آئے روز کی شکایات کا ازالہ کرنا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13-02-2015 :تاریخ اشاعت