عزیرجان بلوچ کی پاکستان حوالگی کا معاملہ ہفتوں کی تاخیر کا شکار
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
- مزید خبریں

تلاش کیجئے

عزیرجان بلوچ کی پاکستان حوالگی کا معاملہ ہفتوں کی تاخیر کا شکار

دبئی (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 12فروری۔2015ء)لیاری گینگ وار کے اہم کردار عزیرجان بلوچ کی پاکستان حوالگی کا معاملہ ہفتوں کی تاخیر کا شکار ہے۔ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ دبئی کی عدالت کے حکم پر ملزم کو قونصل خانے کے ذریعے پاکستانی ا نٹرپول حکام کے حوالے کیا جائے گا،دوسری طرف عذیر بلوچ کی گرفتاری کیلئے پولیس اور رینجرز کے افسران نجی حیثیت میں ٹوریسٹ ویزے پر دبئی میں ہیں۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق کسی دوسرے ملک میں گرفتار ملزم کی بین الاقوامی قوانین کے تحت حوالگی پیچیدہ ہوتی ہے، جس میں وزارت داخلہ، خارجہ، انٹرپول اور قونصل خانے کا کردار اہم ہوتا ہے اوردبئی میں گرفتار پاکستانی عزیر بلوچ کی حوالگی میں بھی یہی قانون لاگو ہوتاہے۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ عذیر بلوچ حوالگی کیس ایک ہفتہ قبل وزارت خارجہ کے حوالے کیا گیا تھا، یہ فائل ڈپلومیٹک پارسل سے دبئی میں پاکستانی قونصل خانے بھجوائی گئی، قونصل خانہ یہ ریکارڈ دبئی کی وزارت داخلہ کو بھجوائے گا، پھر دبئی حکومت کیس کی منظوری کے بعد عدالت جائیگی، جہاں ملزم کا تفصیلی بیان ریکارڈ کیا جائے گا اورعدالتی حکم پر ملزم کو قونصل خانے کے ذریعے پاکستانی انٹرپول حکام کے حوالے کیا جائیگا۔ پاکستانی انٹرپول حکام ملزم کو پاکستانی سرزمین پر لے آئیں تو متعلقہ اتھارٹی اسے گرفتار کرسکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہیکہ پولیس اور رینجرز کی ٹیمیں متعلقہ پاکستانی حکام سے کوآرڈی نیشن کے بغیر دبئی پہنچے۔امیگریشن ذرائع کے مطابق رینجرز اور پولیس افسران قانونی طورپر سیرو تفریح کے سوا کچھ نہیں کرسکتے اور افسران نے ویزے کی خلاف ورزی کی تو انہیں ”لینے کے دینے پڑسکتے ہیں“۔

12-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان