وکلاء کے دلائل مکمل، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ممتاز قادری کی اپیل پر فیصلہ محفوظ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

وکلاء کے دلائل مکمل، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ممتاز قادری کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا، کسی مسلمان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہے،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے دلائل

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 12فروری۔2015ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل کیس میں گرفتار ممتاز قادری کی جانب سے دائر کی گئی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ خواجہ محمد شریف‘ جسٹس (ر) میاں نذیر اختر اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ممتاز قادری کیس اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ بدھ کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں ممتاز قادری کی طرف سے جسٹس (ر) میاں نذیر اختر پیش ہوئے جبکہ وفاق کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف پیش ہوئے۔

جسٹس نورالحق این قریشی اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار ممتاز قادری کے وکیل جسٹس (ر) میاں نذیر اختر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے وہ بیانات جن میں انہوں نے توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہا تھا‘ اگر اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کا جائزہ لیا جائے تو ان پر توہین رسالت کا مرتکب ہونے پر سخت ترین سزا لاگو ہوتی تھی۔

انہوں نے اسلامی تعلیمات اور اسلامی کتب کا حوالہ دیتے ہوئے پی ایل ڈی 1976ء لاہور‘ ایم ایل ڈی 1997ء کے تحت آرٹیکل 2 کے مختلف فیصلوں کی کاپیاں بھی عدالت میں پیش کیں۔ انہوں نے پی ایل ڈی 1992ء سپریم کورٹ حاکم خان کیس کا بھی حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ناموس رسالت کی توہین کرنے پر سخت ترین سزا دی جاسکتی تھی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ میری کوشش ہوگی کہ دو روز سے جاری اپنے موکل کے حق میں دلائل آج ایک گھنٹے میں ختم کرسکوں امید ہے کہ عدالت سے میرے موکل کو قرآن و سنت کے مطابق اور اسلامی تعلیمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریلیف ملے گا۔

انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے توہین رسالت کے متعلق جو کچھ بھی کہا وہ الیکٹرانک

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان