وزارت پٹرولیم نے پٹرول بحران پر پی ایس او بورڈ آف مینجمنٹ کو تحلیل کردیا ،چیئرمین ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
تاریخ اشاعت: 2015-02-12
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

وزارت پٹرولیم نے پٹرول بحران پر پی ایس او بورڈ آف مینجمنٹ کو تحلیل کردیا ،چیئرمین بورڈ مجاہد عیسانی سمیت سات ممبران کو فارغ کردیا گیا،اوگرا چیئرمین سعید احمد خان فارغ ‘اربوں روپے کی تحقیقات کا آغاز،سعید احمد خان کیخلاف ریفرنس دائر ،سپریم کورٹ آج معطل چیئرمین اوگراسعیداحمدخان کیخلاف مقدمہ سنے گی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 12فروری۔2015ء) وزارت پٹرولیم نے پٹرول بحران پر پی ایس او بورڈ آف مینجمنٹ کو تحلیل کردیا چیئرمین بورڈ مجاہد عیسانی سمیت سات ممبران کو فارغ کردیا گیا ۔ نجی ٹی وی کے مطابق پٹرول بحران کے بعد بننے والی تحقیقاتی کمیٹی نے پی ایس او کے بورڈ آف مینجمنٹ کو بھی بحران کا ذمہ دار قرار دیا تھا جس کے بعد وزارت پٹرولیم نے بورڈ تحلیل کرنے کے لیے سمری وزیراعظم کو ارسال کی اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد وزارت پٹرولیم نے پی ایس او کے بورڈ آف مینجمنٹ کو تحلیل کردیا ہے اور بورڈ کے چیئرمین مجاہد عیسانی سمیت سات ممبران کو فارغ کردیا گیا ہے۔

چیئرمین اوگرا سعید احمد خان کو ملازمت سے فارغ کرنے کے ساتھ ہی کرپشن تحقیقات کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔ سعید احمد خان کو اوگرا سے زبردستی رخصت پر بھیجنے کافیصلہ ‘ آئل اینڈ گیس سیکٹر میں اربوں روپے کی کرپشن اور معاملات کو ریگولیٹ نہ کرنے کی وجہ سے فارغ کیا گیا ہے ۔ پیٹرول بحران پر قائم تحقیقاتی کمیٹی نے اوگرا اتھارٹی کو ذمہ دار قرار دے کر ان کے خلاف بھی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ خبر رساں ادارے کو ذرائع نے بتایا کہ سعید احمد خان چیئرمین اوگرا کے خلاف کرپشن تحقیقات کا حکم پہلے ہی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے رہنماء اسد عمر کی پٹیشن پر دے رکھا ہے۔

سابق چیئرمین اوگرا سعید خان پر الزام ہے کہ انہوں نے ادارہ میں اقربا پروری پر لوگوں کو ملازمتیں اور من پسند افراد کو ترقیاں دیں کے علاوہ یو ایف جی کی شرح میں اضافہ کیا۔ گیس کمپنیوں سے رشوت لے کر نان آپریشنل انکم کوآپریشنل انکم میں تبدیل کرکے گیس صارفین کو 23 ارب کا نقصان

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان