سپریم کورٹ کا ملک بھر میں لاوارث اور ناقابل شناخت لاشوں کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سپریم کورٹ کا ملک بھر میں لاوارث اور ناقابل شناخت لاشوں کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط نظام وضع کرنے کا حکم، ملنے والی لاشوں کی لاپتہ افراد کے لواحقین سے تصدیق کرانے کی ہدایت،ناقابل شناخت لاشوں کی تصدیق کرائی جائے اس حوالے سے اگر قانون سازی بھی کرنا پڑے تو کی جائے،صوبوں کو حکم،حکومتیں ذہن سے نکال دیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی باز پرس نہیں ہو گی،جسٹس جواد ،وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنا فرض کب ادا کریں گے سب کام عدالت نے کرنا ہیں تو حکومتیں بتا دیں کہ تمام تر وسائل کے باوجود وہ مکمل بے بس ہیں،بڑی بڑی ترامیم دو دن میں کر لی جاتی ہیں چھوٹے قوانین بنانے میں حکومتوں کو دلچسپی تک نہیں‘ حکومتیں کام نہیں کریں گی تو اثرات قومی سلامتی پر پڑیں گے ،جسٹس عظمت سعید

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 11فروری۔2015ء) سپریم کورٹ نے ملک بھر میں لاوارث اور ناقابل شناخت لاشوں کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط نظام وضع کرنے کا حکم دیا ہے اور ملنے والی لاشوں کی لاپتہ افراد کے لواحقین سے تصدیق کرانے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے بلوچستان حکومت کی جانب سے لاشوں کی تصدیق کے حوالے سے رپورٹ مسترد کر دی۔ حکومت پنجاب‘ کے پی کے اور سندھ حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ناقابل شناخت لاشوں کی تصدیق کرائی جائے اس حوالے سے اگر قانون سازی بھی کرنا پڑے تو کی جائے۔

یہ حکم جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے منگل کے روز جاری کیا ہے جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنا فرض کب ادا کریں گے سب کام عدالت نے کرنا ہیں تو حکومتیں بتا دیں کہ تمام تر وسائل کے باوجود وہ مکمل بے بس ہیں۔ صوبوں کی رپورٹس تسلی بخش نہیں ۔ مسخ شدہ لاشیں خود آ کر اپنی شناخت نہیں کرا سکتیں۔ کوئٹہ میں صرف 9 لاشوں کو محفوظ کرنے کی سہولت ہے‘ قوم پہلے ہی مشکل ترین حالات سے گزر رہی ہے ہم نے ابھی بھی ہوش نہ کیا تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔

حکومتیں ذہن سے نکال دیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی باز پرس نہیں ہو گی اس کی پوچھ گچھ یہاں نہیں تو اللہ کے حضور ضرور ہو گی جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ حکومتوں کے کام نہ کرنے کا ردعمل ہے۔ حکومت لوگوں کی خدمت کرے تو کوئی مسئلہ پیدا ہی نہ ہو گا۔ جس علاقے میں بیٹیوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں وہاں بھی ایک بیٹی نے اپنے لاپتہ کی تھانے میں جا کر گواہی دی‘ ایک لاپتہ شخص کا والد عدالت میں دھاڑیں مار مار کر روتا رہا اور گریبان چاک تک کر دیا۔

سب کاغذی کارروائی ہے حکومتوں کے طرز حکمرانی سے حالات واضح ہیں۔ حکومتیں لوگوں کے ساتھ مذاق بند کریں۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کرنے کو بڑی بڑی ترامیم دو دن میں کر لی جاتی ہیں مگر چھوٹے قوانین بنانے میں حکومتوں کو دلچسپی تک نہیں‘ حکومتیں کام نہیں کریں گی تو اس کے اثرات قومی سلامتی پر پڑیں گے۔ روزانہ ایک لاش کراچی سے ملتی ہے دوسرے صوبوں کے لوگ اٹھا کر کے پی کے لائے جاتے ہیں شدت پسند اور طالبان لواحقین سے تاوان مانگتے ہیں تاوان نہ ملنے پر لوگوں کو مار دیا جاتا ہے۔

یہ ناقابل شناخت لاشیں کن لوگوں کی ہیں اور انہیں کیوں اور کس نے مارا ہے۔ انہوں نے یہ ریمارکس منگل کے روز دیئے ہیں سماعت شروع ہوئی تو چاروں صوبوں کے لاء افسران پیش ہوئے اور انہوں نے رپورٹس پیش کیں۔ ساجد بھٹی ڈپٹی اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔ نصر اللہ بلوچ بھی پیش ہوئے ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ صرف 437 کیسے کہہ سکتے ہیں بلوچستان نے رپورٹ پیش کی 5 سال کے عرصے میں 153 افراد کی لاشیں ملیں۔ قلات میں 79 ہیں 15 کی پہچان کر لی گئی ہے باقیوں کو دفنا دیا گیا ہے۔

جسٹس جواد نے کہا کہ لاشیں ملتی ہیں مگر سرد خانوں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے اشتہار تک نہیں دیا جاتا ملنے والے لوگوں کی اطلاع کیسے دی جاتی ہے۔ 153 افراد ہیں کوئی لاکھوں افراد تو نہیں جب ایس ایچ او جا کر اطلاع دے سکتا تھا بلوچستان کی طرف سے بتایا گیا کہ پہچان نہ ہونے پر ہم اخباروں میں اشتہار دیا جاتا ہے طریقہ کار بھی درج ہے۔ اس پر جسٹس جواد نے کہا کہ ہمیں طریقہ کار نہیں چاہئے 153 کے لواحقین کا آپ کو علم ہونا چاہئے ان کی چیخیں آسمان تک جا رہی ہیں ‘ قدیر اور نصر اللہ بلوچ مسلسل چیخ رہے ہیں آپ کو پتہ نہیں کہ لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں اور آپ کو پتہ ہی نہیں اچھی حکومت ہے۔

اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کی جاتی۔ پولیس تھانے کی حدود میں جب کوئی لاش ملتی ہے تو اس کا طریقہ کار موجود ہے۔ تاہم موجودہ مقدمے میں پہلے ایف آئی آر تک کا اندراج نہیں ہو رہا تھا عدالت کے حکم پر مقدمہ درج کیا گیا یہ تسلی بخش رپورٹ نہیں ہے یہ ذہن میں رکھ لیں ان کے ماں باپ اور دیگر ورثاء موجود ہیں ایک حادثے میں 35 افراد لاپہ ہو گئے محمد علی قلندرانی کے بچے غائب ہو گئے۔

نصر اللہ بلوچ نے کہا کہ لوگ مایوس ہو رہے ہیں مسخ شدہ لاشوں کے حوالے سے ہسپتال گئے تو لاشیں فرش پر پڑی ہوئی تھیں ہسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ ایک ہفتہ مشکل سے لاشیں رکھی جاتی ہیں پھر دفنا دی جاتی ہیں ڈی این اے ٹیسٹ بھی پولیس کہے تو لئے جاتے ہیں ایدھی والوں کے حوالے لاشیں کر دی جاتی ہیں جسٹس جواد نے کہا کہ حکومت کا فریضہ اتنا تو نہیں ہے کہ لاشوں کی شناخت تو کرے‘ بے شک لاپتہ افراد کی تلاش نہیں ہو سکی مگر لاشوں کی شناخت تو ہونی چاہئے تھی۔

نصر اللہ بلوچ نے بتایا کہ حکومت بے بس ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سے بھی ملاقات ہوئی ہے جسٹس جواد نے کہا کہ تمام وسائل کے باوجود اگر حکومت بے بس ہے تو اعلان کر دے اور گھر چلی جائے۔ یہاں حکومت تو کہہ رہی ہے کہ ہم بے بس نہیں ہیں بلوچستان حکومت کی رپورٹ تسلی بخش نہیں ہے اس لئے مسترد کرتے ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ناصر چٹھہ چیف سیکرٹری ہیں۔ جس پر جواد ایس خواجہ نے کہا کہ لگتا ہے کہ لاء افسران کا حکومت کے درمیان رابطہ ہی نہیں ہے اس لئے انہیں افسران کے حوالے سے علم نہیں ہے۔

عدالت نے حکمنامہ میں تحریر کرایا 3 فروری کو رپورٹ دی گئی تھی جس میں لاوارث لاشوں کے حوالے سے طریقہ کار دیا گیا تھا۔ ہم نے رپورٹ دیکھی ہے اور سی ایم اے کا بھی جائزہ لیا ہے حکومت بلوچستان کی رپورٹ تسلی بخش نہیں ہے۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل فرید سے پوچھا گیا کہ لاشوں کے ملنے پر کیا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے تو انہوں نے کہا کہ مرنے والے کے ورثاء کو بلایا جاتا ہے اور شناخت کی جاتی ہے شناخت نہ ہونے پر اشتہار دیا جاتا ہے 153 افراد کی لاشیں ملی ہیں تعزیرات پاکستان 176 کے تحت پولیس اور مجسٹریٹ کے رویہ و بیانات ہوتے ہیں ہم یہ جان کر حیران ہوئے ہیں کہ لاء افسر نے بتایا کہ لاپتہ افراد کے ورثاء کو اطلاع نہیں دی جاتی جب بھی کوئی لاش ملتی ہے۔

اخبارات میں اشتہار دے دیا جاتا ہے۔ یہ عجیب طریقہ ہے‘ جسٹس جواد نے کہا کہ صوبے کی عوام کی حفاطت کی امین حکومت ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ کتنے لوگ لاپتہ ہیں ہر لاپتہ شخص کے ایک سے زائد رشتہ دار آتے تھے لیوی اور تھانے کے ذریعے لاپتہ افراد کے لواحقین کو اطلاع دی جا سکتی تھی لاش کی تصویر کیسے آ سکتی ہے اخبار کون خریدتا ہے شرح خواندگی ہی اتنی کم ہے۔ افسوس ناک شرح خواندگی ہے۔ مسخ شدہ لاشوں کو کون شناخت کر سکتا ہے پورے ملک کو گیس سپلائی کرنے والے صوبے کی شرح خواندگی سب سے کم ہے۔

آپ کس دنیا میں رہ رہے ہیں پورے وسائل موجود ہیں اطلاع دے سکتے ہیں کہ ملنے والی لاشوں کا جائزہ لے کر پہچان کر لیں کہیں ان میں سے کوئی آپ کا اپنا تو نہیں ہے۔ فرید ڈوگر نے کہا کہ تمام تر طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے جسٹس جواد نے کہا کہ بلوچستان کے 30 ضلعے ہیں سمجھ لیں ایک لاش ملتی ہے تھانے والے نے مجسٹریٹ کو رپورٹ کر کے 176 کی کارروائی کر لے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کو کون سا تھانہ اطلاع دیتا ہے ہمیں کل تک اس کا جواب دیں۔

کیا آپ کے پاس دل نہیں ہے عدالت نے آرڈر میں مزید کہا کہ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کو پولیس یا لیوی کے ذریعے اطلاع دی جانی چاہئے تھی مگر افسوس ایسا نہیں کیا جاتا۔ سیکشن 176 کی کارروائی لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو اطلاع نہ دینے کا متبادل نہیں بن سکتی۔ حکومت کو بار بار کہا گیا کہ لاپتہ افراد کے لواہقین کو سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے دکھ درد میں ان کی مدد کی جائے۔ حکومت نے سرد خانوں کی سہولیات کے حوالے سے بتایا تک نہیں گیا کوئٹہ میں صرف 9 افراد کی لاشوں کو محفوظ کرنے کی سہولت موجود ہے باقی لاپتہ افراد کی لاشیں تو فرشوں پر پڑی ہوں گی۔

یہ بھی حیران کن ہے کہ صوبے میں سرد خانوں کے حوالے سے کوئی رپورٹ نہیں دی گئی۔ معلومات کی کمی سے معاملات تک پہنچنے میں مشکل درپیش ہے۔ نصر اللہ بلوچ نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں سردخانے تک نہیں ہیں کوئٹہ میں ہسپتال اسٹاف نے بتایا کہ ان کے پاس صرف 9 لاشوں کے تحفظ کا انتظام ہے۔ عدم سہولیات کی وجہ سے لاشیں پڑی سڑتی رہتی ہیں پھر بدبو ہونے پر انہیں لاوارث ہی دفنا دیا جاتا ہے۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو بھی معلومات فراہم نہیں کی جاتیں جو ہسپتال یا انتظامیہ سے رابطہ کرتے ہیں۔

حکومت کے کرنے کے جو کام ہیں کہ وہ اس حوالے سے موثر طریقہ کار اختیار کرتی تاکہ اس طرح کے حالات کا جائزہ لیا جا سکتا موجودہ بلوچستان کی رپورٹ غیر تسلی بخس ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ آپ ایک لمحے کے لئے تصور کر لیں اگر آپ کا کوئی لاپتہ ہو اور آپ کو بتائے بغیر ملنے والی لاش دفنا دی جائیں تو آپ کو کیا محسوس ہو گا۔ آپ لاپتہ میر اللہ کے بیٹے ہونے کا تصور کریں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ قوم پہلے ہی مشکل ترین حالات سے گزر رہی ہے اگر ہمیں ابھی بھی ہوش نہیں آ رہا تو اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے یہ ذہن سے نکال دیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی پوچھ گچھ کہیں نہیں ہو گی یہاں نہیں تو اللہ کے پاس ضرور ہو گی‘ عدالت نے آرڈر میں کہا کہ ملنے والی لاشوں کے حوالے سے لاپتہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان